عمران خان سے ملاقات کی اجازت نہ ملنے پر سیاسی کشیدگی میں اضافہ
اسلام آباد میں اڈیالہ جیل کے باہر ایک بار پھر سیاسی ماحول اس وقت گرم ہوگیا جب پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان سے ملاقات کی اجازت نہ دی گئی اور ان کی بہنوں نے عوام سے بڑی تعداد میں اڈیالہ جیل کے باہر جمع ہونے کی اپیل کی تاکہ حکومت پر دباؤ ڈالا جا سکے اور پارٹی رہنماؤں اور کارکنوں کو بھی بار بار ملاقات سے روکا جا رہا ہے جس پر پی ٹی آئی میں شدید تشویش پائی جاتی ہے
عمران خان کی بہنیں بشمول علیمہ خان نورین خان اور عظمہ خان نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ عدالتی احکامات کے باوجود ملاقات کی اجازت نہیں دی جا رہی جو کہ قانون کی خلاف ورزی ہے اور انہوں نے کہا کہ عمران خان کو تنہائی میں رکھا گیا ہے اور ان کے ساتھ غیر منصفانہ سلوک کیا جا رہا ہے
پی ٹی آئی کے رہنما سلمان اکرم راجہ نے بھی کہا کہ پارٹی کارکن ہر ہفتے ملاقات کے لیے آتے ہیں مگر انہیں اجازت نہیں ملتی انہوں نے واضح کیا کہ پی ٹی آئی ایک منظم جماعت ہے اور اس کے کارکن پرامن احتجاج پر یقین رکھتے ہیں
پارٹی ترجمان نے انسانی حقوق کمیشن کی رپورٹ پر بھی ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ ملک میں اظہار رائے کی آزادی محدود ہو رہی ہے اور صحافیوں کو دباؤ کا سامنا ہے انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کارکنوں کے خلاف مقدمات سیاسی انتقام پر مبنی ہیں اور یہ صورتحال جمہوریت کے لیے خطرناک ہے
پی ٹی آئی قیادت کا عمران خان کو تنہائی میں رکھنے پر تشویش کا اظہار
حکومت پر الزام لگایا گیا کہ وہ عدالتی احکامات پر عمل نہیں کر رہی اور سیاسی مخالفین کو دبانے کے لیے طاقت کا استعمال کیا جا رہا ہے اڈیالہ جیل کے باہر موجود کارکنوں نے بھی نعرے بازی کی اور عمران خان کے حق میں آواز بلند کی انہوں نے مطالبہ کیا کہ فوری طور پر ملاقات کی اجازت دی جائے
سیاسی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ صورتحال ملک میں سیاسی کشیدگی کو مزید بڑھا سکتی ہے اور حکومت کو مذاکرات کے ذریعے حل تلاش کرنا چاہیے انسانی حقوق کے حوالے سے خدشات بڑھتے جا رہے ہیں اور مختلف تنظیمیں حکومت سے مطالبہ کر رہی ہیں کہ سیاسی قیدیوں کے حقوق کا خیال رکھا جائے
پی ٹی آئی کے مطابق عمران خان پاکستان کی عوامی سیاست کا اہم چہرہ ہیں اور ان کی مقبولیت کو ختم نہیں کیا جا سکتا انہوں نے کہا کہ عوام ان کے ساتھ کھڑے ہیں آخر میں پارٹی رہنماؤں نے کہا کہ جب تک ملاقات کی اجازت نہیں ملتی احتجاج جاری رہے گا اور وہ آئینی و قانونی راستہ اختیار کریں گے
اس پورے معاملے نے ملک میں ایک نئی سیاسی بحث کو جنم دیا ہے جس میں عوام حکومت اور اداروں کے کردار پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں اور مستقبل کی سیاسی سمت پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے پی ٹی آئی کارکن مسلسل متحرک ہیں اور اڈیالہ جیل کے باہر صورتحال بدستور کشیدہ بنی ہوئی ہے حکومت سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ وہ فوری طور پر شفاف تحقیقات کرے اور انصاف فراہم کرے

