طارق ملک کو عالمی ڈیجیٹل شناخت لیڈرز میں شامل کر لیا گیا
اسلام آباد میں سابق نادرا چیئرمین طارق ملک کو ڈیجیٹل شناخت کے عالمی رہنماؤں کی فہرست میں شامل کر لیا گیا ہے جو کہ امریکی کمپنی اوکتا کی جانب سے جاری کی گئی ہے یہ فہرست ڈیجیٹل ٹیکنالوجی اور جدید شناختی نظام پر کام کرنے والے دنیا کے نمایاں افراد پر مشتمل ہے جنہوں نے عالمی سطح پر ڈیجیٹل نظام کو محفوظ اور آسان بنانے میں کردار ادا کیا ہے
اوکتا وینچرز جو کہ اوکتا کمپنی کا سرمایہ کاری ونگ ہے اس نے طارق ملک کو دنیا کے پچیس بہترین ڈیجیٹل شناختی رہنماؤں میں شامل کیا ہے اس فہرست میں ایسے ماہرین شامل ہیں جو سافٹ ویئر ترقی پالیسی سازی اور ڈیجیٹل نظام کے ذریعے محفوظ لین دین کو یقینی بنانے پر کام کر رہے ہیں
اس اعزاز کے موقع پر طارق ملک کی تصویر نازڈیک اسکرین پر ٹائمز اسکوائر نیویارک میں دکھائی گئی جو ان کی عالمی سطح پر خدمات کا اعتراف ہے ان کے انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ ڈیجیٹل شناخت کی کامیابی صرف ٹیکنالوجی پر نہیں بلکہ اس کے نظام حکومت اور اس کی شفافیت پر منحصر ہوتی ہے
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ شناختی نظام کو ایک بنیادی حکومتی ڈھانچے کے طور پر دیکھا جانا چاہیے اور اس میں ادارہ جاتی خودمختاری قانونی تحفظ اور عوامی اعتماد کو مضبوط بنانا ضروری ہے
انہوں نے مزید کہا کہ دنیا میں ڈیجیٹل شناخت کے نظام میں تین بڑی تبدیلیاں آ رہی ہیں جن میں بغیر پاس ورڈ تصدیق قابل تصدیق شناختی دستاویزات اور ڈیجیٹل گورننس کا خودکار نظام شامل ہے اس کے ساتھ ساتھ ڈیٹا اور مصنوعی ذہانت کا امتزاج ایک نئے اعتماد کے نظام کو تشکیل دے رہا ہے
پاکستان کے لیے عالمی سطح پر ایک بڑا اعزاز
نادرا میں اپنی خدمات کے دوران طارق ملک نے کہا کہ کسی بھی شناختی نظام کی کامیابی کا انحصار اس بات پر ہے کہ وہ شہریوں کو فوری فائدہ دے اور اس میں شمولیت کا عمل آسان اور شفاف ہو
انہوں نے یہ بھی کہا کہ جب بھی کوئی ڈیجیٹل نظام پرانی طاقتوں کے مفادات کو متاثر کرتا ہے تو اسے مزاحمت کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور اس کے لیے مضبوط ادارہ جاتی اتحاد ضروری ہوتا ہے
وہ دو ہزار تیرہ میں نادرا کے چیئرمین کے عہدے سے مستعفی ہوئے تھے اور اس وقت وہ عالمی بینک کے ڈیجیٹل شناخت پروگرام کے ساتھ بطور تکنیکی مشیر خدمات انجام دے رہے ہیں
وہ اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام کے ساتھ بھی ڈیجیٹل گورننس پر کام کر چکے ہیں اور دنیا کے مختلف خطوں میں ڈیجیٹل شناختی نظام کی بہتری کے لیے مشاورت فراہم کرتے رہے ہیں
انہیں اس سے پہلے بھی کئی عالمی اعزازات مل چکے ہیں جن میں ڈیجیٹل گورننس کے سو نمایاں افراد میں شامل ہونا اور عالمی ڈیجیٹل اثر و رسوخ رکھنے والوں کی فہرست میں نام آنا شامل ہے
ان کی یہ کامیابی پاکستان کے لیے ایک اہم اعزاز ہے جو ڈیجیٹل شناخت ڈیجیٹل گورننس اور نادرا جیسے اداروں کی عالمی سطح پر اہمیت کو مزید اجاگر کرتی ہے

