مرکزی دفتر کا اہم دورہ اور سرحدی صورتحال پر بریفنگ
وزیر اعظم میاں محمد شہباز شریف نے جمعہ کے روز راولپنڈی میں پاکستانی فوج کے مرکزی دفتر کا دورہ کیا جہاں اعلیٰ عسکری قیادت نے انہیں پاکستان اور افغانستان کے درمیان موجودہ سرحدی صورتحال پر تفصیلی بریفنگ دی اس موقع پر ملک کی سلامتی کو درپیش خطرات اور حالیہ پیش رفت پر کھل کر تبادلہ خیال کیا گیا
یہ اہم دورہ ایسے وقت میں سامنے آیا جب پاکستان کی سکیورٹی فورسز نے سرحد پار سے ہونے والے بلا اشتعال حملوں کے بعد جوابی کارروائی کا آغاز کیا سرکاری ذرائع کے مطابق گزشتہ روز سرحدی علاقوں میں فائرنگ اور دراندازی کے واقعات پیش آئے جس کے بعد پاکستانی فورسز نے بھرپور اور مؤثر جواب دیا اس کارروائی کا مقصد ملکی خودمختاری کا تحفظ اور دشمن عناصر کو واضح پیغام دینا تھا
وزیر اعظم نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ افغان حکام اور ملک دشمن شدت پسند گروہوں کے درمیان کسی بھی قسم کا گٹھ جوڑ ناقابل قبول ہے انہوں نے زور دیا کہ ریاست کے خلاف سرگرم عناصر کے ساتھ آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائے گا اور کسی قسم کی نرمی نہیں برتی جائے گی ان کا کہنا تھا کہ ملک کے اندر امن و استحکام کو نقصان پہنچانے کی ہر سازش کو ناکام بنایا جائے گا
انہوں نے کہا کہ پاکستان کی مسلح افواج سربراہ جنرل عاصم منیر کی قیادت میں ہر قسم کے خطرے کا مقابلہ کرنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں اور دشمن کی ہر جارحیت کا منہ توڑ جواب دینے کی صلاحیت رکھتی ہیں وزیر اعظم نے اعتماد کے ساتھ کہا کہ پاکستان اپنے دفاع کا پورا حق رکھتا ہے اور وطن عزیز کی حفاظت کے لیے کسی قربانی سے دریغ نہیں کیا جائے گا
وزیر اعظم کا فوج کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں پر اظہار اعتماد
وزیر اعظم نے سرحدی علاقوں میں جوانوں کی پیشہ ورانہ مہارت اور بہادری کو سراہتے ہوئے کہا کہ افواج پاکستان نے دشمن کے حملوں کو ناکام بنا کر ایک بار پھر اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا ہے انہوں نے کہا کہ پوری قوم اپنی فوج کے ساتھ کھڑی ہے اور وطن کے محافظوں کی قربانیوں کو سلام پیش کرتی ہے
بریفنگ کے دوران سرحدی نگرانی کے نظام کو مزید مضبوط بنانے اور دہشت گردی کے خاتمے کے لیے جاری اقدامات پر بھی تفصیلی گفتگو کی گئی وزیر اعظم نے ہدایت دی کہ قومی سلامتی کے معاملے پر تمام فیصلے قومی مفاد کو سامنے رکھ کر کیے جائیں اور عوام کو صورتحال سے باخبر رکھا جائے تاکہ کسی قسم کی بے چینی پیدا نہ ہو
سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ موجودہ حالات میں حکومت اور فوج کے درمیان قریبی رابطہ قومی یکجہتی کی علامت ہے اور اس سے دنیا کو واضح پیغام جاتا ہے کہ پاکستان اپنے دفاع اور خودمختاری کے معاملے میں متحد ہے عوامی حلقوں کی جانب سے بھی سکیورٹی فورسز کے ساتھ اظہار یکجہتی کیا جا رہا ہے اور شہریوں کا کہنا ہے کہ سرحدوں کی حفاظت ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے
وزیر اعظم کا یہ دورہ اس عزم کا اظہار ہے کہ پاکستان اپنی سرزمین کے دفاع پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا اور ہر خطرے کا ڈٹ کر مقابلہ کرے گا قومی قیادت کا متحد ہونا دشمن قوتوں کے لیے واضح پیغام ہے کہ پاکستان ایک مضبوط اور باوقار ریاست ہے جو اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے ہر قدم اٹھانے کی صلاحیت رکھتی ہے

