وزیراعظم شہباز شریف کی ورچوئل اثاثوں کے نظام کو تیز کرنے کی ہدایت
وزیراعظم شہباز شریف نے ملک میں ورچوئل اثاثوں کے نظام کو تیزی سے نافذ کرنے کی ہدایت دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کو ڈیجیٹل معیشت میں آگے لے جانے کے لیے فوری اقدامات ضروری ہیں
لاہور میں ہونے والی ایک اہم ملاقات کے دوران وزیراعظم کو ورچوئل اثاثہ جات کے شعبے میں جاری پیش رفت سے آگاہ کیا گیا جس میں بتایا گیا کہ حکومت اس شعبے کو عالمی معیار کے مطابق منظم بنانے پر کام کر رہی ہے وزیراعظم نے اس بات پر زور دیا کہ ایک مضبوط اور شفاف نظام بنایا جائے تاکہ سرمایہ کاروں کا اعتماد بڑھے اور پاکستان کی معیشت کو فائدہ پہنچے
وزیراعظم نے خاص طور پر نوجوانوں کی تربیت پر زور دیا اور کہا کہ جدید ٹیکنالوجی جیسے مصنوعی ذہانت اور ڈیجیٹل فنانس میں مہارت حاصل کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے انہوں نے کہا کہ اگر نوجوانوں کو جدید مہارتیں دی جائیں تو وہ عالمی سطح پر مقابلہ کر سکتے ہیں اور ملک کی ترقی میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں
اس موقع پر پاکستان ورچوئل اثاثہ جات ریگولیٹری اتھارٹی کے چیئرمین بلال بن ثاقب نے وزیراعظم شہباز شریف کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ ادارہ اب ایک مکمل ریگولیٹر کے طور پر کام کرنے کے لیے تیار ہو رہا ہے انہوں نے کہا کہ ایک ریگولیٹری سینڈ باکس بھی شروع کیا جا رہا ہے جہاں نئی ٹیکنالوجیز کو محفوظ ماحول میں آزمایا جا سکے گا
پاکستان ورچوئل اثاثہ اتھارٹی کی نئی ذمہ داریاں
بریفنگ میں مزید بتایا گیا کہ مصنوعی ذہانت پر مبنی ادائیگیوں اور منظم ورچوئل اثاثہ خدمات جیسے شعبوں میں جدت لائی جا رہی ہے تاکہ پاکستان ڈیجیٹل معیشت میں پیچھے نہ رہ جائے اس کے ساتھ ساتھ قومی اداروں کو بھی جدید تقاضوں کے مطابق تیار کیا جا رہا ہے
حکومت کی جانب سے یہ اقدامات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ پاکستان مستقبل کی معیشت کی طرف بڑھ رہا ہے جہاں ورچوئل اثاثے اور ڈیجیٹل مالیاتی نظام اہم کردار ادا کریں گے اس سے نہ صرف سرمایہ کاری میں اضافہ ہوگا بلکہ روزگار کے نئے مواقع بھی پیدا ہوں گے
ڈیجیٹل معیشت پاکستان ورچوئل اثاثے سرمایہ کاری مصنوعی ذہانت ڈیجیٹل فنانس نوجوانوں کی تربیت جدید ٹیکنالوجی معاشی ترقی عالمی معیار ریگولیٹری نظام
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر حکومت ان منصوبوں کو کامیابی سے مکمل کر لیتی ہے تو پاکستان خطے میں ایک اہم ڈیجیٹل حب بن سکتا ہے اور عالمی سرمایہ کاروں کو اپنی طرف متوجہ کر سکتا ہے اس سے ملک کی معیشت کو استحکام ملے گا اور ٹیکنالوجی کے شعبے میں نئی راہیں کھلیں گی

