پشاور ہائی کورٹ نے افغان شہریوں کی بے دخلی روک دی
پشاور ہائی کورٹ نے افغان شہریوں کی جبری بے دخلی سے متعلق اہم کیس میں عارضی حکم جاری کرتے ہوئے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ہدایت کی ہے کہ وہ ایک افغان خاندان کو ملک بدر نہ کریں جن کی بیرون ملک دوبارہ آبادکاری کا کیس زیر التوا ہے
یہ کیس افغان مہاجرین اور انسانی حقوق کے حوالے سے ایک اہم پیش رفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے کیونکہ درخواست گزار سابق افغان سرکاری ملازم ہیں جنہوں نے 2021 کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال کے باعث پاکستان میں پناہ لی تھی
پشاور ہائی کورٹ کے دو رکنی بینچ نے اس کیس کی سماعت کرتے ہوئے داخلہ امور کی وزارت سمیت دیگر متعلقہ اداروں کو نوٹس جاری کیا اور ان سے تفصیلی جواب طلب کیا ہے
درخواست گزار کے وکیل نے عدالت میں موقف اختیار کیا کہ اقوام متحدہ مہاجرین ادارہ کی جانب سے اس خاندان کے کیس پر مثبت سفارش کی گئی ہے اور ان کی عارضی رہائش کے لیے درخواست پہلے ہی پاکستان حکومت کو بھیجی جا چکی ہے
انہوں نے مزید کہا کہ درخواست گزار سابق افغان حکومت کے ایک اہم شعبے سے وابستہ رہے ہیں اور اگر انہیں افغانستان واپس بھیجا گیا تو ان کی جان کو شدید خطرات لاحق ہو سکتے ہیں
عدالت کو یہ بھی بتایا گیا کہ ملک میں جاری افغان مہاجرین کے خلاف کارروائیوں کے باعث اس خاندان میں شدید خوف و ہراس پایا جاتا ہے اور انہیں کسی بھی وقت گرفتار یا بے دخل کیا جا سکتا ہے
عدالت کا انسانی ہمدردی کی بنیاد پر اہم فیصلہ
درخواست میں مؤقف اپنایا گیا کہ افغان شہریوں کے پاس موجود رجسٹریشن کارڈ اور دیگر قانونی دستاویزات کے باوجود انہیں بے دخلی کے خطرات کا سامنا ہے جس سے انسانی حقوق کی خلاف ورزی کا پہلو بھی سامنے آتا ہے
عدالت نے ابتدائی سماعت کے بعد حکم جاری کیا کہ جب تک اس کیس کا فیصلہ نہیں ہو جاتا اس وقت تک درخواست گزار خاندان کے خلاف کوئی سخت کارروائی نہ کی جائے
اسی طرح دیگر کیسز میں بھی عدالت نے زیر حراست افغان شہریوں کو ضمانت پر رہا کرنے کا حکم دیا ہے جن میں بعض افراد نے پاکستانی شہریوں سے شادیاں کی ہیں اور وہ قومی شناختی نظام کے تحت کارڈ کے لیے اہل سمجھے جاتے ہیں
عدالت نے ان مقدمات میں ضمانت منظور کرتے ہوئے یہ شرط عائد کی کہ ملزمان دو دو سیکیورٹی ضمانتیں جمع کرائیں تاکہ قانونی عمل مکمل طور پر یقینی بنایا جا سکے
ان فیصلوں کو انسانی ہمدردی اور قانونی اصولوں کے درمیان توازن قائم رکھنے کی کوشش قرار دیا جا رہا ہے کیونکہ پاکستان میں افغان مہاجرین کا مسئلہ ایک طویل عرصے سے جاری ہے اور اس پر مختلف عدالتی فیصلے سامنے آتے رہے ہیں
یہ عدالتی کارروائی ایسے وقت میں ہوئی ہے جب افغان مہاجرین کی واپسی اور دوبارہ آبادکاری کے معاملات پر بین الاقوامی سطح پر بھی گفتگو جاری ہے اور مختلف ادارے اس مسئلے کے مستقل حل کے لیے کوششیں کر رہے ہیں
پشاور ہائی کورٹ کا یہ حکم انسانی حقوق قانونی تحفظ اور مہاجرین کی حفاظت کے حوالے سے ایک اہم مثال سمجھا جا رہا ہے جس کا اثر مستقبل میں دیگر اسی نوعیت کے مقدمات پر بھی پڑ سکتا ہے

