چمن میں بچوں کے ساتھ خوفناک حادثہ گیس سلنڈر پھٹنے سے سات بچے جاں بحق اور دیگر بیس زخمی
چمن کے گاؤں کلی محمود آباد میں ایک دردناک حادثے میں سات بچے جاں بحق ہو گئے جبکہ بیس دیگر افراد زخمی ہو گئے حادثہ اس وقت پیش آیا جب بچے ایک قبائلی بزرگ کے گھر میں روزہ کھولنے کے لیے دہی لینے کے لیے جمع ہوئے تھے
پولیس اور مقامی حکام کے مطابق گیس سلنڈر کے زوردار دھماکے کے سبب گھر کی کچن مکمل طور پر تباہ ہو گئی اور دیگر کمروں کو بھی شدید نقصان پہنچا۔ بچوں کے انتظار کے دوران دھماکہ ہوا جس کے باعث وہ گھر کے ملبے تلے دب گئے
فوری طور پر ریسکیو ٹیمیں اور پولیس اہلکار موقع پر پہنچے اور بچوں اور زخمیوں کو بچانے کی کوششیں شروع کیں۔ زخمیوں میں چار خواتین اور آٹھ بچے شامل تھے جو فوری طور پر سول اسپتال چمن منتقل کیے گئے
ڈاکٹر اویس، میڈیکل سپرنٹنڈنٹ اسپتال چمن نے بتایا کہ ہمارے پاس سات بچوں کی لاشیں اور بیس زخمی اسپتال پہنچائے گئے۔ زخمیوں میں بعض کی حالت تشویشناک تھی جس کے باعث انہیں مزید علاج کے لیے سول اسپتال کوئٹہ منتقل کیا گیا
پولیس اہلکاروں کے مطابق دھماکے کی شدت کے سبب کچن مکمل طور پر تباہ ہو گیا اور دیگر کمروں کو بھی نقصان پہنچا۔ خواتین جب کھانا پکا رہی تھیں تو وہ زخمی ہو گئیں۔ بچوں کے ملبے تلے دب جانے کے باعث وہ جاں بحق ہو گئے
پولیس اور مقامی انتظامیہ کی تحقیقات اور حفاظتی ہدایات
ضلعی انتظامیہ نے اس حادثے پر گہرا افسوس اور دکھ کا اظہار کیا اور فوت شدہ بچوں کے خاندانوں سے تعزیت کرتے ہوئے تحقیقات کا حکم دیا تاکہ دھماکے کی اصل وجہ معلوم کی جا سکے
مقامی حکام نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ گھریلو گیس سلنڈر استعمال کرتے وقت خصوصی احتیاط کریں تاکہ ایسے دلخراش واقعات دوبارہ نہ ہوں
صدر آصف علی زرداری نے بھی اس حادثے پر اپنی دلی تعزیت ظاہر کی۔ انہوں نے کہا کہ میں ان خاندانوں کے دکھ میں برابر کا شریک ہوں جنہوں نے اپنے بچے اس حادثے میں کھو دیے اور میری دعائیں ان کے ساتھ ہیں
صدر نے کہا کہ مرحوم بچوں کی روح کو سکون ملے اور ان کے خاندانوں کو صبر اور حوصلے کے ساتھ اس مشکل وقت سے گزرنے کی طاقت ملے زخمیوں کی جلد صحتیابی کے لیے بھی دعا کی گئی
اس حادثے نے نہ صرف چمن کے گاؤں والوں کے دلوں میں گہرا افسوس پیدا کیا بلکہ یہ ہم سب کے لیے سبق بھی ہے کہ گھروں میں گیس سلنڈر کی حفاظت پر مکمل توجہ دی جائے اور چھوٹے بچوں کی حفاظت کو ہمیشہ ترجیح دی جائے
بچوں اور خواتین کی زندگی کی حفاظت ہم سب کی ذمہ داری ہے اور مقامی انتظامیہ اور شہری مل کر ایسے حادثات کو روکنے کے لیے اقدامات کر سکتے ہیں۔ اس طرح ہم اپنے پیاروں کو محفوظ رکھ سکتے ہیں۔
یہ حادثہ نہ صرف ایک غمناک واقعہ ہے بلکہ ہمارے لیے ایک انتباہ بھی ہے کہ گھر کی حفاظت اور بچاؤ کو کبھی نظرانداز نہ کیا جائے۔

