گُل پلازہ کراچی میں آگ بھڑک اٹھی
کراچی کے مرکزی علاقے ایم اے جناح روڈ پر واقع گُل پلازہ میں ہفتے کی رات کو شدید آگ بھڑک اٹھی جس نے چھ افراد کی جان لے لی گُل پلازہ کراچی میں آگ بھڑک اٹھی اور بیس سے زائد افراد زخمی ہوئے۔ ریسکیو ٹیمیں صبح سے ہی آگ بجھانے اور پھنسے ہوئے افراد کو نکالنے کے لیے دن رات مصروف ہیں۔ سندھ حکومت نے عوام کے لیے ہیلپ لائن قائم کی ہے تاکہ گمشدہ افراد یا آگ سے متعلق کسی بھی معلومات کو فوری طور پر شیئر کیا جا سکے
ریسکیو اہلکاروں کے مطابق ہلاک ہونے والے افراد کی اموات زیادہ تر دھویں کی وجہ سے ہوئی جبکہ زخمیوں کو فوری طور پر سول ہسپتال کراچی منتقل کیا گیا ہے۔ ابتدائی رپورٹ کے مطابق گُل پلازہ کے نیچے والے فلور پر واقع تمام دکانیں اور گودام مکمل طور پر آگ کی لپیٹ میں آ گئے۔ عمارت کے کچھ حصے، بشمول ستون، گرنے لگے جس کی وجہ سے آگ بجھانے کی کارروائی میں مشکلات پیش آئیں
فائر بریگیڈ اور ریسکیو ۱۱۲۲ کی ٹیمیں رات دیر تک آگ بجھانے کی کوشش کرتی رہیں۔ پانی کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے واٹر بورڈ نے فوری طور پر ہائیڈرینٹس اور ٹینکروں کا انتظام کیا اور ہائیڈرینٹس کے اہلکار ہر وقت ریسکیو ٹیموں کے رابطے میں رہے۔ سندھ کے وزیراعلیٰ مراد علی شاہ نے کراچی کمشنر اور ڈپٹی کمشنر ساؤتھ کی جانب سے آگ کے حوالے سے مکمل بریفنگ حاصل کی اور کہا کہ زخمیوں کو بہترین طبی سہولیات فراہم کی جائیں
چھ افراد ہلاک اور بیس سے زائد زخمی
ابتدائی تحقیقات کے مطابق اس آگ کی بنیادی وجہ بگڑا ہوا سرکٹ بریکر ہو سکتی ہے تاہم حتمی رپورٹ تب جاری کی جائے گی جب مکمل کولنگ اور تکنیکی جانچ مکمل ہو جائے۔ آئی جی سندھ جاوید عالم اوڈھو نے واقعے کے مقام کا دورہ کیا اور فائر بریگیڈ اور ریسکیو ٹیموں کو ہدایت دی کہ بچاؤ کے کاموں کو جلدی اور مؤثر طریقے سے جاری رکھا جائے
عوام میں تشویش پائی جاتی ہے کیونکہ تقریباً ایک ہزار دو سو دکانیں اور بازار کے مختلف حصے اس آگ سے متاثر ہوئے ہیں۔ سندھ حکومت اور متعلقہ ادارے اس وقت تمام وسائل بروئے کار لا کر آگ کو مکمل طور پر بجھانے اور متاثرین کی مدد میں مصروف ہیں۔
صدر، وزیراعظم، گورنر اور دیگر سیاسی شخصیات نے بھی اس المناک واقعے پر گہری ہمدردی کا اظہار کیا اور حکومت سندھ کو فوری اقدامات کرنے کی ہدایت کی رینجرز اور دیگر ریسکیو ادارے بھی آگ بجھانے اور متاثرین کی امداد میں شامل ہیں
ریسکیو ٹیمیں آج بھی عمارت کے اندر موجود افراد کو نکالنے، آگ بجھانے اور ٹھنڈا کرنے کے کام میں مصروف ہیں۔ حکام نے یقین دلایا ہے کہ متاثرہ تاجروں اور شہریوں کو ہر ممکن مدد فراہم کی جائے گی اور آگ کی وجہ جانچ کر مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے اقدامات کیے جائیں گے
یہ واقعہ کراچی کے شہریوں کے لیے ایک دردناک لمحہ ہے اور سب کی توجہ حفاظتی اقدامات اور آگ سے بچاؤ کی اہمیت کی طرف مبذول کراتا ہے۔ عوام سے بھی اپیل کی گئی ہے کہ وہ محفوظ رہیں اور ہیلپ لائن کے ذریعے معلومات فراہم کریں تاکہ متاثرین کو جلد از جلد سہارا دیا جا سکے

