مچل اسٹارک کی شاندار کارکردگی ایشیز سیریز کا بہترین کھلاڑی قرار
ایشیز سیریز کے آخری ٹیسٹ میں آسٹریلیا نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے انگلینڈ کو شکست دی اور سیریز اپنے نام کر لی اس تاریخی کامیابی میں مچل اسٹارک کی کارکردگی سب سے نمایاں رہی جنہوں نے پوری سیریز میں غیر معمولی بولنگ کرتے ہوئے کھلاڑیوں اور شائقین سب کو متاثر کیا ان کی مسلسل وکٹیں اور دباؤ میں بہترین گیند بازی انہیں سیریز کا بہترین کھلاڑی بنانے کا سبب بنی
سڈنی کے میدان میں کھیلے گئے آخری مقابلے میں آسٹریلوی ٹیم کو جیت کے لیے درمیانہ ہدف درکار تھا آغاز میں اوپنرز نے پراعتماد بیٹنگ کی مگر انگلینڈ کے تیز گیند بازوں نے بروقت کامیابیاں حاصل کر کے مقابلہ سنسنی خیز بنا دیا اہم بلے باز جلد آؤٹ ہوئے جس سے میچ کا پلڑا کچھ دیر کے لیے انگلینڈ کی جانب جھکتا دکھائی دیا تاہم میزبان ٹیم نے حوصلہ نہیں ہارا
مڈل آرڈر پر دباؤ بڑھنے کے باوجود آسٹریلوی کھلاڑیوں نے ذمہ دارانہ کھیل پیش کیا وکٹوں کے گرنے کے بعد بھی کریز پر موجود بلے بازوں نے تحمل کا مظاہرہ کیا اور غیر ضروری شاٹس سے گریز کیا یہی وجہ رہی کہ ٹیم اعصابی کیفیت کے باوجود ہدف حاصل کرنے میں کامیاب رہی
سڈنی ٹیسٹ میں اعصابی مقابلہ آسٹریلیا نے انگلینڈ کو شکست دے دی
میچ کے دوران مچل اسٹارک کی بولنگ نے ایک بار پھر ثابت کر دیا کہ وہ بڑے مقابلوں کے کھلاڑی ہیں آخری اننگز میں انہوں نے انگلینڈ کے مضبوط بیٹنگ آرڈر کو مشکلات میں ڈالا خاص طور پر آخری دن ان کی گیند بازی نے میچ کا رخ مکمل طور پر بدل دیا انہوں نے نہ صرف اہم وکٹیں حاصل کیں بلکہ انگلش بلے بازوں کو کھل کر کھیلنے کا موقع بھی نہیں دیا
انگلینڈ کی جانب سے ایک نوجوان بلے باز نے شاندار اننگز کھیلی اور طویل وقت تک وکٹ پر ڈٹا رہا اس کی بیٹنگ کو شائقین نے خوب سراہا اور میدان میں تالیاں بجتی رہیں مگر اسٹارک کی ایک شاندار گیند نے اس اننگز کا خاتمہ کر دیا جو میچ کا فیصلہ کن لمحہ ثابت ہوا
سیریز کے اختتام پر مچل اسٹارک کے وکٹوں کی تعداد سب سے زیادہ رہی جس کی بدولت انہیں بہترین کھلاڑی کا اعزاز دیا گیا اگرچہ ٹریوس ہیڈ نے بھی بیٹنگ میں نمایاں کردار ادا کیا مگر مجموعی اثر کے لحاظ سے اسٹارک سب پر بازی لے گئے
آسٹریلیا کی یہ کامیابی ٹیم ورک نظم و ضبط اور تجربے کا نتیجہ تھی اس سیریز نے ثابت کیا کہ مضبوط منصوبہ بندی اور دباؤ میں درست فیصلے کس طرح بڑی فتوحات میں بدل جاتے ہیں شائقین کرکٹ کے لیے یہ مقابلہ یادگار رہا اور مچل اسٹارک کی کارکردگی طویل عرصے تک یاد رکھی جائے گی

