آبنائے ہرمز میں کشیدگی: امریکہ اور ایران کے درمیان خطرناک محاذ آرائی
خلیج فارس کی آبنائے ہرمز ایک بار پھر عالمی توجہ کا مرکز بن گئی ہے، جہاں امریکہ اور ایران کے درمیان فوجی کشیدگی خطرناک حد تک بڑھ گئی ہے گزشتہ رات ایک تجارتی بحری جہاز پر امریکی حملے کے بعد صورتحال مزید سنگین ہو گئی ہے، جس میں ایک شخص ہلاک اور دس سے زائد زخمی ہوئے دونوں ممالک کے درمیان سفارتی اور فوجی سطح پر تناؤ اپنے عروج پر ہے اور خطے میں امن کا مستقبل گہری غیر یقینی صورتحال میں ڈوبا ہوا نظر آتا ہے
مناب کے قریب بحری جہاز پر حملہ ایک شخص ہلاک، دس زخمی
ایران کے ساحلی شہر مناب کے گورنر نے تصدیق کی ہے کہ گزشتہ رات امریکی فوج نے مناب کے قریبی سمندری علاقے میں ایک تجارتی بحری جہاز کو نشانہ بنایا۔ حملے کے نتیجے میں جہاز میں شدید آگ بھڑک اٹھی، جس نے جہاز کے بڑے حصے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ اس حملے میں جہاز پر سوار ایک شخص جاں بحق ہو گیا جبکہ دس افراد مختلف درجات کی چوٹوں کے ساتھ زخمی ہوئے۔ گورنر کے مطابق کئی افراد ابھی تک لاپتہ ہیں اور ریسکیو آپریشن جاری ہے۔
یہ واقعہ اس لحاظ سے انتہائی اہمیت کا حامل ہے کہ آبنائے ہرمز دنیا کی سب سے اہم آبی گزرگاہوں میں سے ایک ہے، جہاں سے دنیا کی تیل کی سپلائی کا ایک بڑا حصہ گزرتا ہے۔ اس علاقے میں کسی بھی فوجی کارروائی کے اثرات نہ صرف خطے بلکہ پوری دنیا کی معیشت پر پڑ سکتے ہیں۔
ٹرمپ کا بیان — جنگ بندی برقرار لیکن دباؤ جاری
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس تازہ واقعے کے حوالے سے ایک بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی ابھی بھی قائم ہے تاہم انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ امریکی افواج نے یہ کارروائی ایران کی جانب سے کیے گئے حملوں کے جواب میں دفاعی اقدام کے طور پر کی ہے
صدر ٹرمپ نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ امریکی فوج نے ایرانی فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا اور یہ سب کچھ امریکی مفادات کے تحفظ کے لیے ناگزیر تھا انہوں نے ایران کو خبردار کیا کہ اگر تہران جلد از جلد امن معاہدے پر دستخط کر دے تو مستقبل میں مزید خونریزی اور کشیدگی سے بچا جا سکتا ہےٹرمپ نے زور دیتے ہوئے کہا کہ امریکہ خطے میں امن اور استحکام کا خواہاں ہے، لیکن اگر امریکی فوج اور اس کے مفادات کو کوئی خطرہ لاحق ہوا تو اسے کسی بھی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا۔ ان کے اس بیان کو عالمی تجزیہ کاروں نے ایک طرف سفارتی راستہ کھلا رکھنے اور دوسری طرف فوجی طاقت کے استعمال کی دھمکی کے طور پر دیکھا ہے
ایرانی وزیر خارجہ کا ردعمل ہم کبھی نہیں جھکیں گے
ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے امریکی کارروائی کو شدید الفاظ میں مسترد کرتے ہوئے اسے انتہائی خطرناک اور غیر ذمہ دارانہ قرار دیا۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارم “ایکس” پر جاری اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ جب بھی سفارتی ذرائع سے مسائل حل ہونے کی امید پیدا ہوتی ہے، عین اسی وقت امریکہ کوئی نہ کوئی خطرناک فوجی مہم جوئی کا انتخاب کر لیتا ہے
عراقچی نے اپنے بیان میں ایک اہم سوال اٹھایا کہ “کیا یہ محض ایک ناقص دباؤ کی حکمت عملی ہے؟ یا پھر کوئی اور شرارت ہے جو ایک بار پھر امریکی صدر کو ایک نئی دلدل میں دھکیل رہی ہے؟” انہوں نے خبردار کیا کہ وجہ کچھ بھی ہو، نتیجہ ہمیشہ ایک ہی رہتا ہے — ایرانی قوم کبھی بھی کسی دباؤ کے سامنے نہیں جھکتی اور نہ جھکے گی۔
ایرانی وزیر خارجہ نے امریکی خفیہ ادارے سی آئی اے کی جانب سے ایران کے میزائل ذخائر کے حوالے سے لگائے گئے اندازوں کو بھی سختی سے مسترد کر دیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ سی آئی اے کا یہ کہنا کہ ایران کے میزائل ذخائر اور لانچر کی صلاحیت 31 مارچ کے مقابلے میں صرف 75 فیصد رہ گئی ہے، سراسر غلط اور گمراہ کن ہے۔ عراقچی کے بقول اصل اعداد و شمار 120 فیصد ہیں، یعنی ایران کی فوجی صلاحیت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ چکی ہے
آبنائے ہرمز دنیا کا سب سے حساس آبی راستہ
آبنائے ہرمز جغرافیائی اور اقتصادی لحاظ سے دنیا کی انتہائی اہم گزرگاہ ہے۔ خلیج فارس اور بحر عرب کو ملانے والی یہ تنگ آبی پٹی اس قدر اہمیت رکھتی ہے کہ اس کی ناکہ بندی پوری دنیا کی توانائی فراہمی کو متاثر کر سکتی ہے۔ دنیا کی تیل کی تجارت کا ایک بڑا حصہ اسی راستے سے گزرتا ہے
اسی وجہ سے یہ علاقہ ہمیشہ سے امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی کا مرکز رہا ہے۔ ایران اس آبنائے پر اپنا اثر و رسوخ قائم رکھنا چاہتا ہے، جبکہ امریکہ اس کی آزادانہ نقل و حرکت کو یقینی بنانا چاہتا ہے تاکہ اس کے اتحادی ممالک کو تیل کی بلاتعطل فراہمی ممکن ہو سکے
بین الاقوامی برادری کا ردعمل اور خدشات
اس تازہ ترین واقعے نے عالمی برادری میں تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان جاری یہ فوجی اور سفارتی کشمکش کسی بھی وقت ایک بڑے تصادم میں تبدیل ہو سکتی ہے، جس کے اثرات پورے خطے اور بین الاقوامی معیشت پر پڑیں گے
یورپی ممالک اور دیگر عالمی طاقتیں دونوں فریقوں سے تحمل اور سفارتی مذاکرات کی اپیل کر رہی ہیں۔ اقوام متحدہ نے بھی صورتحال کو خطرناک قرار دیتے ہوئے فوری طور پر کشیدگی کم کرنے کا مطالبہ کیا ہے
صورتحال کا مستقبل جنگ یا امن؟
اس وقت سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ آیا دونوں ممالک سفارتی مذاکرات کا راستہ اختیار کریں گے یا فوجی تصادم مزید بڑھے گا؟ ٹرمپ کی جانب سے امن معاہدے کی پیشکش اور ایران کی جانب سے دباؤ کے سامنے نہ جھکنے کے اعلان کے درمیان سفارتی حل کی راہ نکالنا انتہائی مشکل دکھائی دیتا ہے۔
امریکی انتظامیہ کا موقف یہ ہے کہ وہ ایران کو جوہری ہتھیاروں کی تیاری سے روکنا چاہتی ہے اور اس مقصد کے لیے وہ ہر ممکن دباؤ استعمال کرنے کے لیے تیار ہے۔ دوسری طرف ایران کا کہنا ہے کہ وہ اپنی خودمختاری اور قومی مفادات پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔
آنے والے دن اس خطے کے لیے انتہائی اہم ہیں۔اگر دونوں فریق سفارتی میز پر آنے میں کامیاب نہ ہوئے تو آبنائے ہرمز میں کشیدگی مزید بڑھ سکتی ہے، جو نہ صرف خطے بلکہ پوری دنیا کے لیے سنگین نتائج کی حامل ہوگی۔

