Fri. May 8th, 2026

ایران نے پاکستان کے ذریعے امریکا سے پیغامات کی تصدیق کر دی تازہ خبر

پاکستان سفارت کاری  پاکستان سفارت کاری آبنائے ہرمز بحران ایران جوہری مذاکرات شہباز شریف ثالثی  پاکستان سفارت کاری  پاکستان سفارت کاری آبنائے ہرمز بحران ایران جوہری مذاکرات شہباز شریف ثالثی پاکستان سفارت کاری  پاکستان سفارت کاری آبنائے ہرمز بحران ایران جوہری مذاکرات شہباز شریف ثالثی
پاکستان سفارت کاری  پاکستان سفارت کاری آبنائے ہرمز بحران ایران جوہری مذاکرات شہباز شریف ثالثی  پاکستان سفارت کاری  پاکستان سفارت کاری آبنائے ہرمز بحران ایران جوہری مذاکرات شہباز شریف ثالثی پاکستان سفارت کاری  پاکستان سفارت کاری آبنائے ہرمز بحران ایران جوہری مذاکرات شہباز شریف ثالثی

ایران کا پاکستان کے ذریعے امریکا سے پیغامات کے تبادلے کی تصدیق  مکمل تفصیلی رپورٹ

دنیا کی نظریں ان دنوں مشرقِ وسطیٰ پر مرکوز ہیں جہاں ایک طرف میدانِ جنگ میں توپوں اور میزائلوں کی گرج سنائی دے رہی ہے تو دوسری طرف سفارتی راہداریوں میں خاموش لیکن انتہائی اہم پیغامات کا تبادلہ جاری ہے اس پیچیدہ اور تاریخی سفارتی کھیل میں پاکستان ایک کلیدی کردار ادا کر رہا ہے جو ایران اور امریکا کے درمیان ایک قابلِ اعتماد ثالث کی حیثیت سے ابھرا ہے

ایران کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے باضابطہ طور پر اس بات کی تصدیق کی ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان پاکستان کے ذریعے کئی پیغامات کا تبادلہ ہو چکا ہے، اور ان تبادلوں میں ایران کے موقف کا اظہار بھی کیا گیا ہے۔

مئی کا اہم اعلان امریکی پیغامات زیرِ غور

ایران کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے 7 مئی کو باضابطہ طور پر اعلان کیا کہ تہران پاکستانی ثالثوں کے ذریعے موصول ہونے والے امریکی سفارتی پیغامات کا جائزہ لے رہا ہے۔ بقائی کا یہ بیان انتہائی اہمیت کا حامل ہے کیونکہ اس سے ایران اور امریکا کے درمیان جاری غیر رسمی سفارتی رابطوں کی تصدیق ہوتی ہے

ترجمان نے یہ بھی واضح کیا کہ ابھی تک کوئی باضابطہ جواب نہیں دیا گیا کیونکہ تہران اپنے اگلے اقدام کا تعین کر رہا ہے۔

یہ بیان اس لیے بھی اہم ہے کیونکہ الجزیرہ نے اس دن کے شروع میں رپورٹ کیا تھا کہ اگرچہ کوئی سرکاری ڈیڈ لائن مقرر نہیں کی گئی، لیکن پاکستانی ثالث اُسی روز ایران سے جواب کی توقع رکھتے تھے۔ اس کے علاوہ ایران نے یہ بھی واضح کیا کہ فی الحال جوہری مذاکرات ایجنڈے پر نہیں ہیں اور ایران تمام محاذوں پر جنگ بندی کو یقینی بنانے پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہے

امریکی تجویز کیا ہے

ترجمان اسماعیل بقائی نے ایرانی طلبا نیوز ایجنسی کو بتایا کہ “امریکی تجویز ابھی ایران کے زیرِ غور ہے اور نتیجے پر پہنچنے کے بعد پاکستانی فریق کو ایران کا موقف آگاہ کیا جائے گا۔”

امریکی تجویز کے بارے میں مزید تفصیل سامنے آئی ہے۔ 25 مارچ کو پاکستانی حکام نے ایران کو امریکا کی جانب سے ایک “15 نکاتی تجویز” پہنچائی جس میں ایران کے جوہری پروگرام کا خاتمہ، میزائلوں پر پابندیاں، آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنا، مسلح گروپوں کی حمایت ختم کرنا، اور ایران کو پابندیوں میں ریلیف دینا شامل تھا۔

ایران نے اس تجویز کو مسترد کر دیا اور اپنا جوابی موقف پیش کیا۔ ایران نے اپنی “5 نکاتی جوابی تجویز” پیش کی جس میں ایران اور ایران نواز قوتوں پر امریکی-اسرائیلی حملوں کا خاتمہ، مستقبل میں جارحیت سے تحفظ کی ضمانتیں، جنگی تاوان، اور آبنائے ہرمز پر ایران کی خودمختاری کو بین الاقوامی سطح پر تسلیم کرنا شامل تھا۔

پاکستان کا کردار ثالثی کا تاریخی مشن

پاکستان نے اس پورے بحران میں ایک انتہائی حساس اور اہم کردار ادا کیا ہے

ایک ماہر تعلقاتِ بین الاقوام نے الجزیرہ کو بتایا کہ یہ ثالثی کا فارمولہ خلیجی ملکوں کے درمیان اختلافات کی وجہ سے سامنے آیا اور پاکستان کے دونوں فریقوں سے تعلقات نے اسے ایک فطری انتخاب بنا دیا۔

پاکستان کی سفارتی کوششیں صرف پیغامات پہنچانے تک محدود نہیں رہیں۔ پاکستانی آرمی چیف نے مذاکرات کے آخری گھنٹوں میں بھی دونوں فریقوں سے رابطے جاری رکھے، یہاں تک کہ جب وزیراعظم شہباز شریف نے عوامی اپیل کی تو پانچ گھنٹے کے اندر صورتحال میں پیشرفت ہوئی

پاکستانی حکام نے کہا ہے کہ وہ دونوں فریقوں کو مذاکرات کی میز پر واپس لانے کے لیے محتاط امید کے ساتھ کوشش جاری رکھے ہوئے ہیں، اور ایران کے سفیر نے بھی کہا کہ تہران “صرف پاکستان میں مذاکرات کرے گا کیونکہ ہمیں پاکستان پر اعتماد ہے”

جنگ بندی کا معاہدہ اور اس کی پیچیدگیاں

8 اپریل 2026 کو امریکا اور ایران نے پاکستان کی ثالثی میں دو ہفتے کی جنگ بندی پر اتفاق کیا۔ ایران نے 5 اپریل کو پاکستان کی جانب سے پیش کردہ 45 روزہ دو مرحلاتی جنگ بندی کے فریم ورک کو مسترد کر دیا تھا اور اس کے بجائے اپنی 10 نکاتی امن تجویز پیش کی تھی۔

وزیراعظم شہباز شریف نے سوشل میڈیا پر اعلان کیا کہ “اسلامی جمہوریہ ایران اور امریکا اور ان کے اتحادی لبنان سمیت تمام محاذوں پر فوری جنگ بندی پر متفق ہو گئے ہیں۔”

تاہم یہ جنگ بندی ابتدا سے ہی متنازع رہی۔ اسرائیلی وزیراعظم بنجامن نتن یاہو نے لبنان کو جنگ بندی میں شامل کرنے کی مخالفت کی اور امریکی صدر ٹرمپ اور نائب صدر جے ڈی وینس نے بھی کہا کہ جنگ بندی لبنان پر لاگو نہیں ہوتی۔

آبنائے ہرمز کا بحران اور امریکی ناکہ بندی

ایران کے ترجمان بقائی نے الزام لگایا کہ امریکا نے جنگ بندی کے نفاذ کے پہلے دن سے ہی اسے پامال کیا، اور 13 اپریل سے آبنائے ہرمز میں امریکی بحری ناکہ بندی اس کی واضح مثال ہے

ترجمان نے امریکی بحری ناکہ بندی کو “غیر قانونی اور مجرمانہ” قرار دیا اور اسے “جنگی جرم اور انسانیت کے خلاف جرم” بتایا۔ انہوں نے یہ بھی وارننگ دی کہ اگر امریکا اور اسرائیل نے حملے دوبارہ شروع کیے تو ایرانی افواج “اس کا مناسب جواب دیں گی

اسلام آباد مذاکرات: پیشرفت لیکن کوئی معاہدہ نہیں

11 اپریل 2026 کو امریکی نائب صدر جے ڈی وینس، صدر ٹرمپ کے خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف، اور داماد جیرڈ کشنر اسلام آباد پہنچے جہاں ایرانی حکام سے امن مذاکرات ہوئے۔ ایرانی وفد میں وزیرِ خارجہ عباس عراقچی اور پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف شامل تھے

پاکستانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے اسلام آباد مذاکرات کے بارے میں کہا کہ “نہ کوئی پیشرفت ہوئی اور نہ ہی مذاکرات بریک ڈاؤن ہوئے۔” انہوں نے مزید کہا کہ “ثالث کے طور پر ہمارے لیے ضروری ہے کہ ہم مذاکرات کو خفیہ رکھیں۔”

ایران کے مطالبات اور شرائط

ایران اس وقت اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل سے براہِ راست ضمانتیں، پابندیاں اٹھانے، اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کا مطالبہ کر رہا ہے

اس کے علاوہ لبنان کا مسئلہ بھی ایران کی شرائط میں شامل  ایران نے اصرار کیا ہے کہ لبنان کو کسی بھی معاہدے میں شامل کیا جائے، یہ دلیل دیتے ہوئے کہ وہاں اسرائیلی حملوں کو، جن میں 2000 سے زائد افراد ہلاک اور 12 لاکھ بے گھر ہوئے ہیں، وسیع تر تنازعے سے الگ نہیں کیا جا سکتا

متعلقہ پوسٹس