پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ایک بار پھر اضافے کا قوی امکان عوام پر مزید بوجھ پڑنے کا خدشہ
ملک میں مہنگائی کی مار پہلے سے جھیل رہے عوام کے لیے ایک اور بری خبر سامنے آ رہی ہے۔ ذرائع کے مطابق حکومت آئندہ پندرہ روزہ جائزے کے دوران پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں نمایاں اضافے پر غور کر رہی ہے۔ عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ اور پیٹرول کی درآمدی لاگت میں اضافے کو اس ممکنہ قیمت بڑھانے کی بنیادی وجہ قرار دیا جا رہا ہے۔
تیل کی صنعت کے اندرونی ذرائع سے حاصل کردہ تازہ ترین اندازوں کے مطابق پیٹرول کی قیمت میں فی لیٹر چار روپے پچھتر پیسے تک اضافہ ہو سکتا ہے۔ اگر یہ اضافہ عملی شکل اختیار کر لیتا ہے تو پیٹرول کی ایکس ریفائنری قیمت موجودہ دو سو ستر روپے تین پیسے فی لیٹر سے بڑھ کر دو سو چوہتر روپے ستتر پیسے فی لیٹر تک پہنچ جائے گی۔
عالمی منڈی میں قیمتوں کا عمل دخل
پیٹرول کی قیمتوں میں اس ممکنہ اضافے کی جڑیں عالمی تیل کی منڈی میں پیوست ہیں۔ بین الاقوامی مارکیٹ میں پیٹرول کی قیمت ایک سو انتالیس اعشاریہ صفر تین ڈالر فی بیرل سے بڑھ کر ایک سو تینتالیس اعشاریہ صفر ایک ڈالر فی بیرل تک جا پہنچی ہے۔ اس واضح اضافے کا براہ راست اثر ملکی سطح پر پیٹرولیم مصنوعات کی لاگت پر پڑتا ہے، کیونکہ پاکستان اپنی تیل کی ضروریات کا بڑا حصہ بیرون ملک سے درآمد کرتا ہے
یہ بات قابل ذکر ہے کہ بین الاقوامی سطح پر پریمیم اور دیگر اخراجات میں معمولی کمی ضرور دیکھی گئی ہے، تاہم عالمی قیمتوں میں آنے والے بڑے اضافے نے اس معمولی ریلیف کو مکمل طور پر بے اثر کر دیا ہے۔ یعنی جو تھوڑی بہت راحت پریمیم میں کمی سے مل سکتی تھی، وہ خام تیل کی چڑھتی قیمتوں نے نگل لی۔
ہائی اسپیڈ ڈیزل معاملہ قدرے مختلف
پیٹرول کے برعکس ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں اضافے کا تخمینہ نسبتاً کم ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ڈیزل کی قیمت میں صرف بیس پیسے فی لیٹر کا معمولی اضافہ متوقع ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ ڈیزل کی قیمت تقریباً اپنی موجودہ سطح پر ہی برقرار رہے گی۔ یہ خبر ان شعبوں کے لیے کچھ حد تک تسلی بخش ہے جو ڈیزل پر انحصار کرتے ہیں، جیسے کہ زراعت، ٹرانسپورٹ، اور صنعت۔
تاہم جہاں تک پیٹرول کا تعلق ہے اس کی قیمت میں چار روپے پچھتر پیسے کا اضافہ عام آدمی کی جیب پر براہ راست اثر ڈالے گا، کیونکہ موٹرسائیکل اور چھوٹی گاڑیاں چلانے والے طبقے کی بڑی تعداد پیٹرول ہی استعمال کرتی ہے
عوام پر اثرات
پاکستان میں ایندھن کی قیمتوں کا براہ راست تعلق روزمرہ کی زندگی سے ہے۔ جب بھی پیٹرول یا ڈیزل مہنگا ہوتا ہے تو نہ صرف ٹرانسپورٹیشن کے اخراجات بڑھتے ہیں بلکہ اشیائے خور و نوش اور دیگر ضروری اشیاء کی ڈھلائی کے اخراجات میں بھی اضافہ ہو جاتا ہے، جو بالآخر بازاروں میں مہنگائی کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے۔
شہری علاقوں میں روزانہ دفتر اور کاروبار کے لیے نکلنے والے افراد، ٹیکسی اور رکشہ ڈرائیور، چھوٹے تاجر، اور موٹرسائیکل پر انحصار کرنے والے محنت کش طبقے کو اس اضافے کا سب سے زیادہ سامنا کرنا پڑے گا۔ پہلے سے بڑھتی مہنگائی اور بجلی کے بھاری بلوں کی وجہ سے پریشان حال عوام کے لیے یہ خبر ایک اور صدمے سے کم نہیں
حکومتی پالیسی اور پیٹرولیم قیمتیں
پاکستان میں حکومت ہر پندرہ دن بعد پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا جائزہ لیتی ہے اور عالمی منڈی کی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے قیمتیں مقرر کی جاتی ہیں۔ اس نظام کے تحت قیمتوں میں کمی اور اضافہ دونوں ممکن ہوتے ہیں، تاہم گزشتہ کئی ماہ سے عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں عدم استحکام کی وجہ سے مقامی صارفین کو مسلسل اضافوں کا سامنا رہا ہے
موجودہ صورتحال میں بین الاقوامی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں اچانک اضافہ اور روپے کی قدر میں کمزوری دونوں عوامل مل کر درآمدی لاگت کو مزید بڑھا دیتے ہیں، جس کا بوجھ بالآخر حکومت صارفین پر منتقل کرتی ہے
آئندہ جائزے پر نظریں
ابھی حتمی فیصلہ نہیں ہوا اور اعلان آئندہ پندرہ روزہ جائزے کے موقع پر کیا جائے گا۔ تیل کی صنعت کے ذرائع نے جو اعداد و شمار دیے ہیں وہ ابتدائی اندازے ہیں اور حکومت حتمی فیصلہ کرتے وقت عالمی قیمتوں، زر مبادلہ کی شرح، اور دیگر معاشی عوامل کو مدنظر رکھتی ہے
تاہم اگر عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں اسی سطح پر برقرار رہیں تو اضافے کا امکان کافی قوی نظر آتا ہے۔ ملک کے معاشی حالات اور عالمی سطح پر توانائی کے بحران کو دیکھتے ہوئے ماہرین کا خیال ہے کہ آنے والے دنوں میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مزید استحکام لانا ایک بڑا چیلنج رہے گا
عوام اور کاروباری حلقوں کی نظریں حکومت کے آئندہ اعلان پر لگی ہوئی ہیں، اور سب کی خواہش ہے کہ اگر اضافہ ناگزیر بھی ہو تو اسے کم سے کم رکھا جائے تاکہ پہلے سے بوجھل معیشت اور پریشان حال عوام کو مزید تکلیف نہ ہو

