ایران کا انتباہ: دوبارہ حملے کی صورت میں 90 فیصد یورینیم افزودگی کا اعلان
تہران سے موصول ہونے والی تازہ ترین اطلاعات کے مطابق ایران کی پارلیمنٹ کی قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کمیٹی کے ترجمان ابراہیم رضائی نے ایک انتہائی اہم اور سنگین بیان دیا ہے جس نے پوری دنیا کی توجہ اپنی جانب مبذول کرا لی ہے انہوں نے واضح الفاظ میں کہا ہے کہ اگر ایران پر دوبارہ کوئی حملہ کیا گیا تو ملک نوے فیصد یورینیم افزودگی کی طرف بڑھ سکتا ہے یہ بیان ایران کی موجودہ صورتحال اور اس کے مستقبل کے حوالے سے انتہائی اہمیت کا حامل ہے کیونکہ نوے فیصد یورینیم افزودگی کا مطلب عملی طور پر ایٹمی ہتھیار بنانے کی صلاحیت کے قریب پہنچنا ہے اور یہ قدم پوری دنیا کے لیے ایک نئے بحران کا دروازہ کھول سکتا ہے
ابراہیم رضائی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم
ابراہیم رضائی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر اپنے بیان میں صراحت کے ساتھ کہا کہ ایران پر دوسرے حملے کی صورت میں ہمارے اختیارات میں سے ایک نوے فیصد افزودگی ہو سکتی ہے اور اس معاملے کا پارلیمنٹ میں باقاعدہ جائزہ لیا جا رہا ہے انہوں نے بتایا کہ یہ کوئی جذباتی بیان نہیں بلکہ ایران کی قانون ساز اسمبلی میں اس موضوع پر سنجیدہ غور و خوض ہو رہا ہے اور اسے ایک قابل عمل حکمت عملی کے طور پر زیر بحث لایا جا رہا ہے یہ اعلان ایران اور امریکہ کے درمیان جاری کشیدگی کے تناظر میں سامنے آیا ہے جو حالیہ مہینوں میں خطرناک حد تک بڑھ چکی ہے
ایران کی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف
ایران کی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے بھی اس سلسلے میں ایک انتہائی سخت موقف اختیار کیا ہے انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر جاری کردہ اپنے بیان میں کہا کہ امریکہ کے پاس ایرانی عوام کے حقوق کو تسلیم کرنے کے سوا کوئی دوسرا راستہ موجود نہیں ہے انہوں نے چودہ نکاتی تجویز کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس تجویز میں بیان کردہ ایرانی عوام کے حقوق کو تسلیم کرنا ہی واحد قابل قبول راستہ ہے اور اس کے علاوہ کوئی بھی متبادل موجود نہیں ہے قالیباف نے مزید واضح کیا کہ دوسرا ہر طریقہ مکمل طور پر بیکار ثابت ہوگا اور اس سے ناکامیوں کے سوا کچھ بھی حاصل نہیں ہوگا
محمد باقر قالیباف بیان
محمد باقر قالیباف نے اپنے بیان میں امریکی شہریوں اور ٹیکس ادا کرنے والوں کو بھی ایک واضح پیغام دیا انہوں نے کہا کہ امریکہ جتنا زیادہ دیر کرے گا اتنا ہی زیادہ امریکی ٹیکس دہندگان کو اس کی بھاری قیمت چکانی پڑے گی یہ بیان اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ ایران نہ صرف فوجی بلکہ اقتصادی محاذ پر بھی امریکہ کے ساتھ طویل مقابلے کے لیے تیار ہے اور وہ سمجھتا ہے کہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ امریکہ کو زیادہ نقصان اٹھانا پڑے گا
ایران جوہری پروگرام
ایران کے جوہری پروگرام کی تاریخ پر نظر ڈالیں تو یہ سفر کئی دہائیوں پر محیط ہے ایران نے اپنے جوہری حقوق کو ہمیشہ ایک قومی حق کے طور پر پیش کیا ہے اور اس موقف پر ڈٹا رہا ہے کہ وہ پرامن مقاصد کے لیے یورینیم افزودگی کا حق رکھتا ہے تہران کا موقف رہا ہے کہ جوہری توانائی اس کے لیے بجلی اور دیگر پرامن ضروریات کو پورا کرنے کا ذریعہ ہے تاہم مغربی دنیا بالخصوص امریکہ اور یورپی ممالک نے ہمیشہ یہ شک ظاہر کیا ہے کہ ایران کا اصل مقصد جوہری ہتھیار حاصل کرنا ہے اسی تنازعے نے ایران اور مغرب کے درمیان دہائیوں سے کشیدگی کو جاری رکھا ہے
سال دو ہزار پندرہ جوہری معاہدہ
سال دو ہزار پندرہ میں جوہری معاہدہ طے پایا تھا جس کے تحت ایران نے اپنی یورینیم افزودگی کو محدود کرنے پر اتفاق کیا تھا اور اس کے عوض اس پر عائد اقتصادی پابندیاں اٹھائی گئی تھیں تاہم سال دو ہزار اٹھارہ میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس معاہدے سے یکطرفہ طور پر علیحدگی اختیار کر لی اور ایران پر دوبارہ سخت پابندیاں عائد کر دیں اس فیصلے نے پوری صورتحال کو یکسر بدل دیا اور ایران نے بتدریج اس معاہدے کی شرائط پر عمل کرنا کم کر دیا پھر اس نے یورینیم افزودگی کی سطح کو بڑھانا شروع کر دیا جو آج ساٹھ فیصد سے بھی تجاوز کر چکی ہے اور اب نوے فیصد تک پہنچنے کی بات سامنے آ رہی ہے
موجودہ صورتحال ایران اور امریکہ
موجودہ صورتحال میں ایران اور امریکہ کے درمیان بالواسطہ مذاکرات جاری ہیں جن میں ایران کے جوہری پروگرام پر ڈیل کی کوشش کی جا رہی ہے لیکن یہ مذاکرات ابھی تک کسی ٹھوس نتیجے تک نہیں پہنچے ہیں ایران کی طرف سے چودہ نکاتی تجویز کا حوالہ اسی مذاکراتی عمل سے متعلق ہے جس میں ایران نے اپنے مطالبات اور شرائط واضح کی ہیں ایران کا کہنا ہے کہ وہ صرف اسی صورت میں کوئی سمجھوتہ کرے گا جب امریکہ اس کے بنیادی حقوق کو تسلیم کرے اور اس کے ساتھ برابری کی بنیاد پر بات کرے
ایران سخت موقف
ایران کے اس سخت موقف کی پس منظر میں کئی عوامل کارفرما ہیں سب سے پہلے تو ایران پر لگائی گئی اقتصادی پابندیوں نے اس کی معیشت کو شدید نقصان پہنچایا ہے اور عوام کی زندگیاں مشکل ہو گئی ہیں اس صورتحال میں ایرانی حکومت کے لیے یہ ضروری ہو جاتا ہے کہ وہ اپنے عوام کو دکھائے کہ وہ بیرونی دباؤ کے سامنے نہیں جھکتی دوسرا عامل یہ ہے کہ ایران کے مخالفین بالخصوص اسرائیل کی طرف سے وقتاً فوقتاً فوجی حملوں کی دھمکیاں اور بعض اوقات عملی اقدامات بھی سامنے آتے رہے ہیں ایران کی طرف سے نوے فیصد افزودگی کی دھمکی درحقیقت اسی صورتحال کا جواب ہے کہ اگر ہم پر حملہ ہوا تو ہم اپنی دفاعی صلاحیت کو اس سطح تک لے جائیں گے جہاں کوئی ہم پر حملہ کرنے کی جرأت نہ کر سکے
تیسرا اہم عامل ایران اندرونی سیاست
تیسرا اہم عامل ایران کی اندرونی سیاست ہے ایران کی پارلیمنٹ میں اس وقت سخت موقف رکھنے والے افراد کی اکثریت ہے جو یہ سمجھتے ہیں کہ نرمی دکھانے سے کمزوری کا تاثر ملتا ہے اور اس سے دشمن کو فائدہ ہوتا ہے اس لیے وہ حکومت پر دباؤ ڈالتے ہیں کہ وہ کسی بھی صورت میں اپنے حقوق پر سمجھوتہ نہ کرے ابراہیم رضائی اور محمد باقر قالیباف کے بیانات اسی سوچ کی عکاسی کرتے ہیں
اس صورتحال کے علاقائی اثرات
اس صورتحال کے علاقائی اثرات بھی انتہائی اہم ہیں اگر ایران واقعی نوے فیصد یورینیم افزودگی کی طرف بڑھتا ہے تو اس سے پورے خطے میں ایٹمی ہتھیاروں کی دوڑ شروع ہو سکتی ہے سعودی عرب اور دیگر خلیجی ممالک پہلے سے یہ کہہ چکے ہیں کہ اگر ایران جوہری ہتھیار حاصل کرتا ہے تو وہ بھی اس راستے پر چلنے پر غور کریں گے اس طرح پورا مشرق وسطیٰ جوہری ہتھیاروں کی دوڑ میں شامل ہو سکتا ہے جو پوری انسانیت کے لیے ایک بھیانک خطرہ ہوگا اسرائیل جو پہلے سے ایران کو اپنے وجود کے لیے خطرہ سمجھتا ہے اس صورتحال میں مزید سخت ردعمل دکھا سکتا ہے اور یہ سلسلہ کسی بڑی جنگ کی طرف لے جا سکتا ہے
عالمی برادری وقت انتہائی نازک
عالمی برادری کے لیے یہ وقت انتہائی نازک ہے اقوام متحدہ اور دیگر بین الاقوامی ادارے اس صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں یورپی ممالک بھی اس معاملے میں سرگرم کردار ادا کر رہے ہیں اور کوشش کر رہے ہیں کہ ایران اور امریکہ کے درمیان کوئی سمجھوتہ ہو جس سے اس بحران کو ٹالا جا سکے روس اور چین بھی ایران کے حق میں آواز اٹھاتے رہے ہیں اور وہ مغربی دباؤ کو یکطرفہ قرار دیتے ہیں تاہم تمام کوششوں کے باوجود ابھی تک صورتحال میں کوئی بڑی پیش رفت نہیں ہوئی ہے
آنے والے دنوں میں یہ دیکھنا ہوگا کہ امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کا عمل آگے بڑھتا ہے یا پھر کشیدگی مزید بڑھتی ہے ایران کی طرف سے سخت بیانات دراصل مذاکراتی میز پر اپنی پوزیشن مضبوط کرنے کی ایک حکمت عملی بھی ہو سکتی ہے تاہم اگر صورتحال قابو سے باہر ہو گئی تو اس کے نتائج پوری دنیا کے لیے تباہ کن ہوں گے اس لیے ضروری ہے کہ تمام فریق ٹھنڈے دل و دماغ سے مذاکرات کا راستہ اپنائیں اور تصادم سے گریز کریں کیونکہ جنگ کسی کے لیے بھی فائدہ مند نہیں ہوتی اور اس کا سب سے زیادہ نقصان عام عوام کو اٹھانا پڑتا ہے

