شہباز شریف نے امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات میں پاکستان کے کردار کو سراہا
پاکستان کی تاریخ کا روشن باب
وزیراعظم شہباز شریف نے امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات میں پاکستان کے کردار کو اپنی تاریخ کا ایک روشن باب قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ سیاسی اور فوجی قیادت کے درمیان بڑھتے ہوئے تعاون نے پاکستان کی بین الاقوامی ساکھ کو بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کیا ہے وزیراعظم نے یہ باتیں معروف برطانوی اخبار سنڈے ٹائمز کو دیے گئے ایک خصوصی انٹرویو میں کہیں جو ہفتے کی شب شائع ہوا
پاکستان دنیا کا ایماندار ثالث
وزیراعظم شہباز شریف نے انٹرویو میں کہا کہ یہ ہماری تاریخ کے چمکتے لمحات میں سے ایک ہے پاکستان کو پوری دنیا میں ایک ایماندار ثالث کے طور پر تسلیم کیا جا رہا ہے اور پاکستان وہ ملک ہے جس پر دنیا کی بین الاقوامی قیادت کو مکمل اعتماد اور بھروسہ ہے انہوں نے کہا کہ یہ ہمارا روشن وقت ہے اور میں ایک فخرمند پاکستانی کی حیثیت سے یہ بات کہہ رہا ہوں جیسا کہ پاکستان کے تمام چوبیس کروڑ عوام بھی اس لمحے پر فخر محسوس کر رہے ہیں
دوسرے دور کے مذاکرات کی امید اور صدر ٹرمپ کا شکریہ
وزیراعظم نے مزید کہا کہ وہ امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کے دوسرے دور کے حوالے سے پر امید ہیں اور انہیں یقین ہے کہ یہ مذاکرات ایک پائیدار امن کی طرف لے جائیں گے انہوں نے کہا کہ خوش قسمتی سے ہمیں اس باوقار مقام پر رکھا گیا ہے اور ہم اس موقع کو ضائع نہیں جانے دیں گے وزیراعظم نے کہا کہ ایران پر پاکستان کا اعتماد ہے اور امریکی انتظامیہ بھی پاکستان پر بھروسہ کرتی ہے اور خلیجی ممالک بھی پاکستان کو ایک قابل اعتماد ملک سمجھتے ہیں انہوں نے صدر ٹرمپ اور صدر پزشکیان کا شکریہ ادا کیا کہ انہوں نے پاکستان کی دعوت قبول کی اور اسلام آباد میں مذاکرات کے لیے آمادگی ظاہر کی
امن کے لیے صبر اور حکمت ضروری ہے
وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ امن کبھی آسانی سے حاصل نہیں ہوتا اور اس کے لیے صبر و تحمل ہمت اور مشکل ترین حالات میں بھی آگے بڑھتے رہنے کی صلاحیت کی ضرورت ہوتی ہے انہوں نے کہا کہ اس وقت بھی پاکستان اپنی تمام تر کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے تاکہ یہ امن کی کوشش ایک پائیدار نتیجے تک پہنچے اور اسلام آباد میں ایک اور نشست کا انعقاد ہو سکے انہوں نے امید ظاہر کی کہ یہ سلسلہ آگے بڑھتا رہے گا اور دنیا کو ایک مستحکم اور پرامن مستقبل ملے گا
پاکستان کی بین الاقوامی تصویر یکسر بدل گئی
وزیراعظم نے اس بات پر بھی زور دیا کہ پاکستان کی بین الاقوامی تصویر اس سیاسی اور فوجی قیادت کی مشترکہ کوششوں سے یکسر بدل گئی ہے اور آج پاکستان دنیا میں ایک ذمہ دار اور قابل اعتماد ملک کے طور پر پہچانا جا رہا ہے
فیلڈ مارشل عاصم منیر کا تاریخی کردار
وزیراعظم نے چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل عاصم منیر کی بھرپور تعریف کرتے ہوئے کہا کہ جو کچھ ہم دیکھ رہے ہیں وہ سیاسی اور فوجی قیادت کی مشترکہ محنت کا نتیجہ ہے انہوں نے کہا کہ وہ یہ ماننا ضروری سمجھتے ہیں کہ فیلڈ مارشل نے اس سارے عمل میں ایک بنیادی اور فیصلہ کن کردار ادا کیا ہے جسے تاریخ میں ہمیشہ یاد رکھا جائے گا وزیراعظم نے کہا کہ فوجی قیادت کی یہ خدمت نہ صرف پاکستان بلکہ پوری دنیا کے لیے ایک قیمتی تحفہ ہے
اسحاق ڈار کی انتھک سفارتی کوششیں
وزیراعظم نے نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی کوششوں کو بھی سراہا اور کہا کہ انہوں نے اپنے ہم منصبوں سے مسلسل رابطے رکھے اور تھکاوٹ سے بے نیاز ہو کر مذاکرات کو کامیاب بنانے کے لیے انتھک محنت کی انہوں نے کہا کہ اسحاق ڈار کی سفارتی صلاحیتوں اور ان کی لگن نے پاکستان کو ایک اہم سفارتی کامیابی دلانے میں مدد کی
جنگوں کے دور میں پاکستان کی آواز امن
یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں ہوئی ہے جب پوری دنیا میں جنگوں اور کشیدگیوں کا ماحول ہے اور امن کی آواز دبتی جا رہی ہے ایسے حالات میں پاکستان کا ایک ثالث کے طور پر ابھرنا اور دو بڑی طاقتوں کو ایک میز پر بٹھانا واقعی ایک قابل ذکر کارنامہ ہے پاکستان نے ثابت کیا ہے کہ وہ محض ایک علاقائی طاقت نہیں بلکہ ایک ایسا ملک ہے جو عالمی سطح پر امن کے لیے عملی اقدامات کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے
پاکستان ایران اور پاکستان امریکہ تعلقات کی مضبوط بنیاد
پاکستان اور ایران کے تعلقات ہمیشہ سے گہرے اور تاریخی رہے ہیں دونوں ممالک ایک دوسرے کے پڑوسی ہیں اور ان کے درمیان مذہبی ثقافتی اور تجارتی تعلقات کی ایک طویل تاریخ ہے دوسری طرف پاکستان اور امریکہ کے تعلقات بھی دہائیوں پر محیط ہیں اور دونوں ممالک کے درمیان سیاسی اور سفارتی تعاون کا ایک مضبوط پس منظر موجود ہے اس لیے پاکستان کا یہ کردار محض اتفاق نہیں بلکہ اس کے پیچھے سالوں کی سفارتی محنت اور تعلقات کی مضبوطی کارفرما ہے
پوری قوم کے جذبات کی ترجمانی
وزیراعظم شہباز شریف نے اپنے انٹرویو میں جو بات کہی وہ صرف ایک سیاستدان کا بیان نہیں تھا بلکہ یہ ایک پوری قوم کے جذبات کی ترجمانی تھی پاکستان ایک ایسے دور سے گزر رہا تھا جب اس کی اندرونی صورتحال بھی پیچیدہ تھی اور بین الاقوامی سطح پر بھی چیلنجز موجود تھے لیکن اس کے باوجود پاکستانی قیادت نے نہ صرف اپنے گھر کو سنبھالا بلکہ دنیا کو بھی یہ بتایا کہ پاکستان ایک ذمہ دار اور فعال ملک ہے جو عالمی امن میں اپنا کردار ادا کر سکتا ہے
عالمی سطح پر پاکستان کی تعریف
پاکستان کے اس کردار کو نہ صرف ملک کے اندر بلکہ عالمی سطح پر بھی سراہا جا رہا ہے دنیا کے مختلف ممالک اور بین الاقوامی ادارے پاکستان کی اس کوشش کو قدر کی نگاہ سے دیکھ رہے ہیں اور یہ امید ظاہر کی جا رہی ہے کہ پاکستان کی یہ ثالثانہ کوشش نہ صرف امریکہ اور ایران کے درمیان تعلقات کو بہتر بنائے گی بلکہ خطے میں مجموعی طور پر استحکام اور امن کی فضا قائم کرنے میں بھی معاون ثابت ہوگی
پاکستان کا سنہری سفارتی مستقبل
آنے والے دنوں میں اگر مذاکرات کا دوسرا دور بھی کامیابی سے ہوا تو یہ پاکستان کی سفارتی تاریخ میں ایک سنہری باب ہوگا اور آنے والی نسلیں اس لمحے پر فخر کریں گی وزیراعظم شہباز شریف کا یہ کہنا بالکل درست ہے کہ یہ پاکستان کا روشن وقت ہے اور اس روشنی کو مزید پھیلانے کے لیے تمام قومی اداروں اور قیادت کو مل کر کام کرتے رہنا ہوگا تاکہ پاکستان کا یہ مثبت کردار مستقبل میں بھی جاری رہے اور قوم سربلند رہے

