Sun. May 10th, 2026

پیٹرول 14 اور ڈیزل 15 روپے مہنگا تازہ خبر

 پیٹرول ڈیزل مہنگا — رات کو نوٹیفیکیشن جاری  پیٹرولیم لیوی کیوں بڑھائی؟ — اصل وجہ جانیں پیٹرول مہنگا — سوشل میڈیا پر عوام کا غصہ ایندھن مہنگا — مہنگائی اور معیشت پر اثرات آئی ایم ایف شرائط — پاکستان میں ایندھن مہنگا
 پیٹرول ڈیزل مہنگا — رات کو نوٹیفیکیشن جاری  پیٹرولیم لیوی کیوں بڑھائی؟ — اصل وجہ جانیں پیٹرول مہنگا — سوشل میڈیا پر عوام کا غصہ ایندھن مہنگا — مہنگائی اور معیشت پر اثرات آئی ایم ایف شرائط — پاکستان میں ایندھن مہنگا

آمدنی کی کمی پوری کرنے کے لیے حکومت پیٹرولیم لیوی کے ذریعے عوام کو لوٹنے لگی

اسلام آباد — وفاقی حکومت نے ایک بار پھر عوام کی جیبوں پر ڈاکہ ڈال دیا ہے۔ گزشتہ رات اچانک جاری کیے گئے ایک سرکاری نوٹیفیکیشن کے ذریعے پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ کر دیا گیا۔ پیٹرول کی قیمت میں 14 روپے 92 پیسے فی لیٹر اور ڈیزل کی قیمت میں 15 روپے فی لیٹر اضافہ کیا گیا ہے۔ یہ اضافہ کوئی اتفاقی نہیں ہے، بلکہ یہ ایک سوچی سمجھی حکمت عملی کا حصہ ہے، جس میں حکومت پیٹرولیم لیوی کی آڑ میں عوام کی جیبوں سے پیسے نکالنے لگی ہے

نوٹیفیکیشن میں اصل وجہ چھپائی گئی

سرکاری نوٹیفیکیشن میں صرف قیمتوں میں اضافے کا اعلان کیا گیا، لیکن اصل وجہ بتانے کی ضرورت محسوس نہیں کی گئی۔ سرکاری دستاویزات کی گہری چھان بین کے بعد یہ بات سامنے آئی ہے کہ اس اضافے کی بنیادی وجہ پیٹرول اور ڈیزل پر عائد پیٹرولیم لیوی کی شرح میں کیا گیا زبردست اضافہ ہے۔ یعنی عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں مستحکم ہونے کے باوجود، حکومت اپنے خزانے کا خسارہ پورا کرنے کے لیے عوام کو لوٹ رہی ہے۔

دستاویزات کے مطابق، عالمی مارکیٹ میں پیٹرول کی قیمت کے حساب سے پاکستان میں اس کی قیمت گزشتہ رات 268 روپے فی لیٹر تھی، جو گزشتہ ہفتے کے مقابلے میں بالکل تبدیل نہیں ہوئی تھی۔ یعنی عالمی سطح پر پیٹرول نہ سستا ہوا، نہ مہنگا ہوا، لیکن اس کے باوجود حکومت نے پیٹرول کی قیمت میں تقریباً 15 روپے فی لیٹر اضافہ کر دیا۔ اس کی واحد وجہ پیٹرولیم لیوی میں اضافہ ہے

لیوی میں کتنا اضافہ کیا گیا؟

گزشتہ ہفتے پیٹرول پر پیٹرولیم لیوی 103 روپے 50 پیسے فی لیٹر تھی۔ حکومت نے یہ لیوی بڑھا کر 117 روپے 41 پیسے فی لیٹر کر دی۔ یعنی ایک ہی رات میں پیٹرولیم لیوی میں تقریباً 14 روپے فی لیٹر اضافہ کیا گیا۔ یہ لیوی وہ رقم ہے جو سیدھی حکومتی خزانے میں جاتی ہے اور جس کا تعلق نہ عالمی تیل کی قیمتوں سے ہے اور نہ ہی ایندھن کی درآمدی لاگت سے۔

اسی طرح ڈیزل کی صورتحال زیادہ سنگین ہے۔ عالمی منڈی میں ڈیزل کی قیمت بڑھنے کی وجہ سے پاکستان میں اس کی قیمت 342 روپے فی لیٹر بن رہی تھی، جو گزشتہ ہفتے کے مقابلے میں 7 روپے 51 پیسے فی لیٹر زیادہ تھی۔ مطلب یہ کہ عالمی اثر کی وجہ سے صرف ساڑھے سات روپے کا اضافہ ہونا چاہیے تھا، لیکن حکومت نے صارفین کے لیے ڈیزل کی قیمت میں 15 روپے فی لیٹر اضافہ کر دیا، یعنی دوگنا اضافہ۔ کیوں؟ کیونکہ ڈیزل پر عائد پیٹرولیم لیوی بھی 28 روپے 69 پیسے فی لیٹر سے بڑھا کر 42 روپے 60 پیسے فی لیٹر کر دی گئی، یعنی ایک رات میں ڈیزل لیوی میں 14 روپے سے زیادہ اضافہ

آئی ایم ایف کی شرائط بمقابلہ عوامی مفادات

توانائی کے شعبے کی ماہر ڈاکٹر عافیہ ملک نے بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے اس پورے معاملے کا پس منظر واضح کیا۔ ان کا کہنا ہے کہ حکومت آئی ایم ایف (عالمی مالیاتی فنڈ) کی شرائط کے تحت پیٹرولیم لیوی بڑھا رہی ہے۔ آئی ایم ایف حکومت سے مالی نظم و ضبط، سبسڈی ختم کرنے اور آمدنی بڑھانے کی ضمانتیں لے رہا ہے۔ لیکن حکومت نے ان ضمانتوں کو پورا کرنے کے لیے مشکل راستوں کی بجائے آسان راستہ چنا ہے، یعنی پیٹرولیم لیوی بڑھانا۔

ڈاکٹر عافیہ ملک کا کہنا ہے کہ حقیقت میں آمدنی بڑھانے کا صحیح طریقہ یہ ہے کہ ریٹیل سیکٹر، زرعی شعبے اور بڑے تاجروں سے ٹیکس وصول کیا جائے۔ لیکن یہ کام مشکل ہے، اس کے لیے سیاسی ہمت اور انتظامی صلاحیت درکار ہے۔ بدقسمتی سے حکومت ان مشکل لیکن ضروری فیصلوں سے بچتے ہوئے پیٹرولیم لیوی کو ایک آسان راستے کے طور پر استعمال کر رہی ہے۔ ہر بار خسارہ پیدا ہو، لیوی بڑھا دو۔ ایف بی آر ناکام ہو، لیوی بڑھا دو۔ آئی ایم ایف دباؤ ڈالے لیوی بڑھا دو

سبسڈی کا پیچیدہ معاملہ

مالی معاملات کے ماہر فرحان محمود نے بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے ایک اہم پس منظر بیان کیا۔ ان کا کہنا ہے کہ ایران اور امریکہ کی کشیدگی کے بعد عالمی سطح پر تیل کی قیمتیں بڑھیں، جس کی وجہ سے پاکستان میں بھی ایندھن کی لاگت بڑھ گئی۔ اس وقت حکومت نے قیمتوں کو مستحکم رکھنے کے لیے 100 سے 125 ارب روپے کی سبسڈی دی۔ دعویٰ کیا گیا کہ یہ سبسڈی ترقیاتی بجٹ میں کٹوتی کر کے پوری کی جائے گی، لیکن عملی طور پر ایسا نہیں ہو سکا۔ اب یہ خسارہ پورا کرنے کے لیے صارفین پر بوجھ ڈالا جا رہا ہے۔

فرحان محمود کے مطابق اصل مسئلہ یہ ہے کہ حکومت میں مالیاتی ڈسپلن کا فقدان ہے۔ ایک طرف سبسڈی دے کر عوام کو ریلیف دینے کا اعلان ہوتا ہے دوسری طرف چند ہفتوں میں ہی وہ بوجھ دوگنا کر کے واپس عوام پر ڈال دیا جاتا ہے

مہنگائی کا طوفان اور معیشت کا مستقبل

ڈاکٹر عافیہ ملک نے خبردار کیا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ صرف پمپ پر محسوس نہیں ہوگا۔ اس کے اثرات پوری معیشت میں پھیل جائیں گے۔ ٹرانسپورٹ مہنگی ہوگی، جس سے تمام اشیاء کی قیمتیں بڑھیں گی۔ اجناس، سبزیاں، دوائیں، تعمیراتی سامان، ہر چیز کی قیمت بڑھے گی۔ نتیجے میں مہنگائی بڑھے گی، جس سے عوام کی خریداری کی طاقت کمزور پڑے گی۔ جب لوگ کم خریداری کریں گے تو ملک میں پیداوار گھٹے گی، کارخانے سست پڑیں گے، روزگار کے مواقع کم ہوں گے، اور آخرکار ملک کی معاشی ترقی کی رفتار سست پڑ جائے گی۔ یعنی پیٹرولیم لیوی میں اضافہ محض ایک مالیاتی فیصلہ نہیں ہے، بلکہ یہ پوری معیشت کی صحت پر اثرانداز ہونے والا ایک خطرناک قدم ہے۔

سوشل میڈیا پر عوام کا ردعمل

قیمتوں میں اضافے کے اعلان کے بعد سوشل میڈیا پر عوام کے غم و غصے اور تنقید کا طوفان آ گیا۔ سینیٹر ڈاکٹر زرقا تیمور نے ایکس (سابق ٹوئٹر) پر لکھا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ اب صرف اعداد و شمار کا معاملہ نہیں رہا، بلکہ یہ غریب، متوسط اور نچلے متوسط طبقے کی زندگی کا سب سے بڑا عذاب بن چکا ہے۔ ان کے بقول غریب لوگ دو وقت کی روٹی، بچوں کی تعلیم اور علاج کی فکر میں ہیں، متوسط طبقہ اپنی جمع پونجی خرچ کر رہا ہے اور تنخواہ دار طبقہ ہر مہینے مزید قرض میں ڈوب رہا ہے۔ انہوں نے سوال کیا کہ آخر اس ملک کا عام آدمی جائے تو جائے کہاں؟

میاں داؤد نامی صارف نے طنزیہ انداز میں لکھا کہ “انتہائی خوشی سے اعلان کیا جاتا ہے — پیٹرول 14 روپے اور ڈیزل 15 روپے مہنگا!” خالد حسین ملک نامی صارف نے کہا کہ جب قیمتیں کم کرنی ہوتی ہیں تو وزیراعظم خود آ کر عوام کے ہمدرد بن کر اعلان کرتے ہیں، لیکن اضافے کے وقت چپ چاپ رات کو نوٹیفیکیشن جاری کر دیا جاتا ہے۔ صحافی انصار عباسی نے کہا کہ مہنگے پیٹرول پر ٹیکس کم کرنے کی بجائے اس میں مزید اضافہ کرنا عوام پر ظلم ہے اور وزیراعظم کے اس وعدے کی بھی صریح خلاف ورزی ہے، جس میں انہوں نے کہا تھا کہ مزید بوجھ عوام پر منتقل نہیں کیا جائے گا

آخر ذمہ دار کون ہے؟

سوال یہ ہے کہ جب ایف بی آر ٹیکس وصولی میں ناکام ہے جب ریٹیل اور زرعی شعبے ٹیکس نیٹ سے باہر ہیں، جب ترقیاتی بجٹ میں کٹوتی کے وعدے پورے نہیں ہوتے، تو پھر سزا کسے ملتی ہے؟ ہمیشہ انہی غریب اور متوسط طبقے کے لوگوں کو، جو پمپ پر پیٹرول بھروانے جاتے ہیں۔ حکومت جو کام نہ کر سکے، اس کا بوجھ عوام پر ڈال دیا جاتا ہے

جب تک حکومت ٹیکس بنیاد کو وسیع کرنے، امیر طبقوں سے ٹیکس وصول کرنے اور مالیاتی ڈسپلن قائم کرنے کی بجائے پیٹرولیم لیوی کے آسان راستے پر چلتی رہے گی، تب تک عوام کا جینا مشکل سے مشکل ہوتا چلا جائے گا۔ ملک مالیاتی بحران سے تو شاید نکل جائے، لیکن عوام کا اعتماد اور معیار زندگی دن بدن گرتا رہے گا

متعلقہ پوسٹس