Sun. Apr 12th, 2026

اسرائیلی وزیر ایتامار بین گویر کا مسجد اقصیٰ کا متنازع دورہ تازہ خبر

اسرائیلی وزیر ایتامار بین گویر کے مسجد اقصیٰ کے متنازع دورے نے خطے میں نئی کشیدگی پیدا کر دی ہے جبکہ اردن نے سخت ردعمل دیا ہے مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی وزیر کے بیان اور دورے کے بعد عالمی سطح پر ردعمل سامنے آیا ہے اور صورتحال مزید کشیدہ ہو گئی ہے یروشلم کے حساس مقام مسجد اقصیٰ پر اسرائیلی وزیر کے اقدام پر اردن نے احتجاج کیا ہے اور اسے اشتعال انگیزی قرار دیا ہے اسرائیلی وزیر بین گویر کے دورہ مسجد اقصیٰ کے بعد مشرق وسطیٰ میں کشیدگی بڑھ گئی ہے اور عالمی ردعمل سامنے آ رہا ہے مسجد اقصیٰ تنازعہ ایک بار پھر سرخیوں میں ہے جب اسرائیلی وزیر کے دورے نے نئی سفارتی کشیدگی کو جنم دیا ہے
اسرائیلی وزیر ایتامار بین گویر کے مسجد اقصیٰ کے متنازع دورے نے خطے میں نئی کشیدگی پیدا کر دی ہے جبکہ اردن نے سخت ردعمل دیا ہے مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی وزیر کے بیان اور دورے کے بعد عالمی سطح پر ردعمل سامنے آیا ہے اور صورتحال مزید کشیدہ ہو گئی ہے یروشلم کے حساس مقام مسجد اقصیٰ پر اسرائیلی وزیر کے اقدام پر اردن نے احتجاج کیا ہے اور اسے اشتعال انگیزی قرار دیا ہے اسرائیلی وزیر بین گویر کے دورہ مسجد اقصیٰ کے بعد مشرق وسطیٰ میں کشیدگی بڑھ گئی ہے اور عالمی ردعمل سامنے آ رہا ہے مسجد اقصیٰ تنازعہ ایک بار پھر سرخیوں میں ہے جب اسرائیلی وزیر کے دورے نے نئی سفارتی کشیدگی کو جنم دیا ہے

اسرائیلی وزیر ایتامار بین گویر کا مسجد اقصیٰ کا متنازع دورہ

اسرائیل کے انتہائی دائیں بازو کے قومی سلامتی کے وزیر ایتامار بین گویر نے اتوار کے روز یروشلم میں واقع مسجد اقصیٰ کے احاطے کا دورہ کیا جسے خطے میں انتہائی حساس مقام سمجھا جاتا ہے یہ اقدام ایک بار پھر عالمی سطح پر شدید ردعمل اور تنقید کا باعث بنا

بین گویر نے اس دورے کے دوران دعویٰ کیا کہ وہ یہودی عبادت گزاروں کے لیے مزید رسائی چاہتے ہیں اور انہوں نے ایک ویڈیو میں یہ بھی کہا کہ وہ خود کو اس مقام کا مالک سمجھتے ہیں اور مسلسل حکومت پر دباؤ ڈال رہے ہیں کہ یہاں یہودیوں کی رسائی میں اضافہ کیا جائے

یہ مقام جو پرانی شہر یروشلم کی فصیلوں کے اندر واقع ہے مسلمانوں کے لیے تیسرا مقدس ترین مقام ہے جبکہ یہودی اسے ٹیمپل ماؤنٹ کہتے ہیں اور ان کے لیے سب سے مقدس جگہ تصور کیا جاتا ہے

مسجد اقصیٰ تازہ خبر میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ اس مقام پر موجود انتظامی نظام ایک طویل عرصے سے اردن کے مذہبی وقف کے تحت ہے اور موجودہ معاہدے کے مطابق غیر مسلموں کو یہاں آنے کی اجازت تو ہے لیکن عبادت کی اجازت نہیں دی جاتی

اسرائیل فلسطین تنازعہ میں مسجد اقصیٰ کا مرکزی کردار

اسرائیلی وزیر بن گویر دورہ الاقصیٰ کے بعد اردن کی حکومت نے سخت ردعمل دیتے ہوئے اسے مقدس مقام کی بے حرمتی اور موجودہ اسٹیٹس کو معاہدے کی خلاف ورزی قرار دیا ہے

اردن کی وزارت خارجہ نے کہا کہ اس طرح کے اقدامات اشتعال انگیزی ہیں جو خطے میں پہلے سے کشیدہ صورتحال کو مزید خراب کر سکتے ہیں

بین گویر کے ترجمان کے مطابق وزیر کا مقصد یہودی زائرین کے لیے عبادت کی اجازت اور مزید سہولتیں حاصل کرنا ہے اور انہوں نے یہ بھی کہا کہ وزیر نے وہاں نماز بھی ادا کی ہے

اسرائیل اور اردن کے درمیان طے شدہ معاہدے کے تحت اس مقام کی موجودہ حیثیت برقرار رکھی جاتی ہے تاہم ماضی میں بھی اس طرح کے دوروں نے کشیدگی اور احتجاج کو جنم دیا ہے

مسجد اقصیٰ کی صورتحال عالمی سیاست میں ہمیشہ اہم رہی ہے اور اس پر ہونے والی ہر پیش رفت کو نہ صرف مشرق وسطیٰ بلکہ پوری دنیا میں غور سے دیکھا جاتا ہے

اسرائیل فلسطین تنازعہ مسجد اقصیٰ کشیدگی یروشلم تنازعہ بین گویر متنازع دورہ الاقصیٰ یہودی عبادت رسائی تنازعہ مشرق وسطیٰ تازہ صورتحال اہم خبریں

متعلقہ پوسٹس