پاکستان ایئر فورس نے معرکہ حق میں بھارت کے 8 طیارے مار گرائے 8 صفر کا تاریخی فرق
پاکستان ایئر فورس کے ڈپٹی چیف آف ایئر اسٹاف پروجیکٹس ایئر وائس مارشل طارق غازی نے اعلان کیا ہے کہ آپریشن “معرکہ حق” کے دوران پاکستانی فضائیہ نے بھارت کے 8 جنگی طیارے مار گرائے، اور اب پاکستان 8 صفر کی تاریخی برتری پر فائز ہے
یہ اعلان آئی ایس پی آر کے ڈائریکٹر جنرل کے ہمراہ منعقدہ پریس کانفرنس میں کیا گیا، جو آپریشن معرکہ حق کی پہلی سالگرہ کے موقع پر کروائی گئی تھی۔ اس پریس کانفرنس میں پاکستانی مسلح افواج کے سینئر افسران نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا اور ملک کی فضائی، بحری اور زمینی قوت کا تفصیلی احوال پیش کیا
کون سے طیارے مار گرائے گئے؟
ایئر وائس مارشل طارق غازی نے اپنی گفتگو میں تفصیل سے بتایا کہ بھارت کے جن طیاروں کو پاکستانی فضائیہ نے نشانہ بنایا، ان میں مندرجہ ذیل شامل تھے
۔ رافیل جنگی طیارے — 4 عدد فرانسیسی ساخت کا رافیل لڑاکا طیارہ دنیا کے جدید ترین ملٹی رول فائٹر طیاروں میں شمار ہوتا ہے۔ بھارت نے بھاری رقم خرچ کر کے یہ طیارے حاصل کیے تھے اور انہیں اپنی فضائی طاقت کا ستون سمجھتا تھا۔ پاکستانی فضائیہ نے ان میں سے 4 رافیل طیاروں کو آپریشن کے دوران مار گرایا، جو بھارتی فضائیہ کے لیے ایک زبردست جھٹکا ثابت ہوا
سوخوئی ایس یو 30 1 عدد روسی ساخت کا سوخوئی ایس یو 30 ایک طاقتور اور ہمہ مقصدی لڑاکا طیارہ ہے، جسے بھارتی فضائیہ بڑے پیمانے پر استعمال کرتی ہے۔ اس طیارے کو بھی پاکستانی فضائی دفاع نے ناکارہ بنا دیا
میکویان مگ 29 1 عدد روسی ساخت کا مگ 29 فائٹر طیارہ، جو ہوائی برتری حاصل کرنے کے لیے استعمال ہوتا ہے، وہ بھی پاکستانی فضائیہ کا نشانہ بنا۔
داسو میراج 2000 1 عدد فرانسیسی ساخت کا داسو میراج 2000 بھی اس فہرست میں شامل ہے۔ یہ طیارہ بھارتی فضائیہ میں کئی دہائیوں سے سروس میں ہے اور اسے مختلف مشنز کے لیے استعمال کیا جاتا ہے
ان چار اقسام کے علاوہ، ایئر وائس مارشل نے بتایا کہ آپریشن کے دوران ایک انتہائی مہنگا، کثیر المقاصد خودکار فضائی نظام (ڈرون یا ان مینڈ ایریل وہیکل بھی تباہ کیا گیا، جس کی قیمت اربوں روپے بتائی جاتی ہے
8 صفر پاکستان کا تاریخی ریکارڈ
ایئر وائس مارشل طارق غازی نے نہایت اعتماد کے ساتھ کہا: “ہم ابھی 8 0 پر ہیں۔”
یہ جملہ نہ صرف ایک فوجی بیان تھا بلکہ پاکستانی فضائیہ کی پیشہ ورانہ صلاحیت، جدید تکنیک اور حکمتِ عملی کا منہ بولتا ثبوت بھی تھا۔ پاکستانی فضائیہ نے آپریشن کے دوران اپنا کوئی طیارہ نہیں کھویا، جبکہ بھارت کے 8 طیارے مار گرائے گئے — یہ پاکستان کی فضائی تاریخ کا ایک شاندار اور ناقابلِ فراموش باب ہے
فضائی ماہرین کا کہنا ہے کہ جدید ہوائی جنگ میں یہ تناسب انتہائی غیر معمولی ہے اور پاکستانی پائلٹوں کی مہارت، تربیت اور ٹیکنالوجی کی برتری کا واضح ثبوت ہے
آپریشن بنیان المرصوص مربوط فوجی قوت کا مظاہرہ
ایئر وائس مارشل طارق غازی نے یہ بھی واضح کیا کہ آپریشن “بنیان المرصوص” کے دوران پاکستانی فضائیہ نے بھارت کے 8 جنگی طیارے ناکارہ بنائے انہوں نے کہا کہ یہ کامیابی صرف پائلٹوں کی بہادری سے نہیں، بلکہ پاکستانی مسلح افواج کی مشترکہ حکمتِ عملی، جدید ٹیکنالوجی اور بہترین ہم آہنگی کا نتیجہ تھی۔
پاکستان نیوی کا کردار سمندری سرحدیں محفوظ
پریس کانفرنس میں پاکستان نیوی کے ڈپٹی چیف آف نیول اسٹاف آپریشنز نے بھی اپنے محکمے کی کارکردگی پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ آپریشن “معرکہ حق” کے دوران بھارتی بحریہ نے متعدد بار اپنے بحری بیڑے کو پوزیشن میں لانے کی کوشش کی، لیکن پاکستان کی بندرگاہیں مکمل طور پر فعال رہیں اور سمندری تنصیبات محفوظ رہیں
انہوں نے کہا کہ پاکستان نیوی نے اپنی فوری ردعمل کی صلاحیت کا مظاہرہ کرتے ہوئے بھارتی بحریہ کو کوئی بھی اسٹریٹجک فائدہ نہیں اٹھانے دیا۔ سمندری محاذ پر پاکستان کی مضبوط پوزیشن نے دشمن کو ہر قدم پر روکے رکھا۔
مسلح افواج کی باہمی ہم آہنگی فتح کی ضمانت
پریس کانفرنس میں موجود تینوں سینئر افسران نے اس بات پر اتفاق کیا کہ آپریشن کی کامیابی کا سب سے بڑا راز پاک افواج کی باہمی ہم آہنگی تھی۔ فضائیہ، بحریہ اور بری فوج نے مل کر ایسا دفاعی اور جارحانہ نظام ترتیب دیا جس نے دشمن کو ہر محاذ پر ناکام کر دیا۔
ڈپٹی چیف آف نیول اسٹاف نے کہا: “معرکہ حق کے دوران ہتھیار بند افواج کی باہمی ہم آہنگی ہی فتح کی ضمانت بنی۔”
یہ مشترکہ کارروائی جدید دور کی جنگوں میں مربوط آپریشنل منصوبہ بندی کی اہمیت کو اجاگر کرتی ہے
پاکستان کی امن کی خواہش کمزوری نہیں
پریس کانفرنس میں یہ پیغام بھی واضح طور پر دیا گیا کہ پاکستان نے ہمیشہ امن کی راہ کو ترجیح دی ہے، لیکن اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ پاکستان کمزور ہے یا اپنی سرحدوں کے دفاع سے غافل ہے۔
ڈپٹی چیف آف نیول اسٹاف نے خبردار کیا: “پاکستان کی امن کی خواہش کو کمزوری نہ سمجھا جائے”
یہ جملہ پاکستان کی خارجہ اور دفاعی پالیسی کا خلاصہ ہے ہم امن چاہتے ہیں، لیکن اپنی خودمختاری اور سالمیت پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے
پاکستانی فضائیہ کی پیشہ ورانہ برتری
ان انکشافات نے ایک بار پھر ثابت کر دیا کہ پاکستان ایئر فورس خطے کی سب سے پیشہ ور اور قابل فضائی طاقتوں میں سے ایک ہے۔ پاکستانی پائلٹوں نے نہ صرف اپنی ہمت اور بہادری کا مظاہرہ کیا بلکہ جدید ترین فضائی تکنیک اور حکمتِ عملی کا استعمال کرتے ہوئے دشمن کو بھاری نقصان پہنچایا۔
رافیل جیسے طیارے، جنہیں مغربی دنیا سمیت بھارت نے جدید ترین اور ناقابلِ شکست سمجھا تھا، پاکستانی فضائیہ نے انہیں زمین پر اتار دیا۔ یہ کامیابی عالمی فوجی حلقوں میں زیرِ بحث ہے اور ماہرین پاکستان کی اس فتح کو انتہائی اہمیت کا حامل قرار دے رہے ہیں۔
نتیجہ
آپریشن معرکہ حق کی پہلی سالگرہ پر پاکستانی مسلح افواج کی یہ پریس کانفرنس نہ صرف ایک فوجی جائزہ تھی، بلکہ پوری قوم کے لیے ایک فخر اور اعتماد کا پیغام بھی تھی۔ 8 صفر کا اسکور، سمندری محاذ پر کامیابی اور مسلح افواج کی مشترکہ طاقت — یہ سب مل کر ایک واضح پیغام دیتے ہیں: پاکستان اپنے دفاع میں پوری طرح تیار ہے، اور اس تیاری کا ثبوت میدانِ جنگ میں دیا جا چکا ہے

