Sun. Mar 1st, 2026

کراچی میں امریکی قونصل خانے کے مظاہرے 10 افراد جاں بحق، متعدد زخمی

پاکستان کے شہروں میں احتجاج اور کراچی میں قونصل خانے کے قریب جھڑپیں کراچی میں امریکی قونصل خانے کے مظاہرے: 10 افراد جاں بحق، متعدد زخمی سندھ حکومت کا تحقیقاتی عمل: کراچی قونصل خانے پر ہونے والے واقعات کی جانچ لاہور میں امریکی قونصل خانے کے باہر مظاہرے اور سیکیورٹی کی صورتحال گلگت بلتستان میں کرفیو: مظاہرین کی سرکاری دفاتر اور UN عمارتوں پر آگ پاکستان میں شاہراہیں بند: احتجاج کے دوران آمدورفت متاثر اسلام آباد میں دفعہ 144 نافذ: عوامی اجتماعات پر پابندی پاکستان میں پرتشدد مظاہرے اور حکومت کے حفاظتی اقدامات
پاکستان کے شہروں میں احتجاج اور کراچی میں قونصل خانے کے قریب جھڑپیں کراچی میں امریکی قونصل خانے کے مظاہرے: 10 افراد جاں بحق، متعدد زخمی سندھ حکومت کا تحقیقاتی عمل: کراچی قونصل خانے پر ہونے والے واقعات کی جانچ لاہور میں امریکی قونصل خانے کے باہر مظاہرے اور سیکیورٹی کی صورتحال گلگت بلتستان میں کرفیو: مظاہرین کی سرکاری دفاتر اور UN عمارتوں پر آگ پاکستان میں شاہراہیں بند: احتجاج کے دوران آمدورفت متاثر اسلام آباد میں دفعہ 144 نافذ: عوامی اجتماعات پر پابندی پاکستان میں پرتشدد مظاہرے اور حکومت کے حفاظتی اقدامات

پاکستان کے مختلف شہروں میں شدید احتجاج

پاکستان کے مختلف شہروں میں اتوار کے روز شدید احتجاجی مظاہرے دیکھنے میں آئے جن کے دوران کراچی میں واقع امریکی قونصل خانے کے قریب پرتشدد جھڑپوں کے نتیجے میں متعدد افراد جان کی بازی ہار گئے جبکہ کئی زخمی ہوئے۔ یہ مظاہرے ایران میں ہونے والے حالیہ فضائی حملوں کے خلاف کیے گئے جن میں ایرانی سپریم لیڈر کی ہلاکت کی خبر سامنے آئی۔ اس واقعے کے بعد ملک بھر میں غم و غصے کی لہر دوڑ گئی اور مختلف مذہبی و سیاسی جماعتوں کی جانب سے احتجاج کی کال دی گئی

کراچی میں سب سے زیادہ کشیدگی اس وقت دیکھنے میں آئی جب مظاہرین بڑی تعداد میں مائی کولاچی روڈ پر واقع امریکی قونصل خانے کی جانب بڑھنے لگے۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے مظاہرین کو روکنے کے لیے آنسو گیس اور لاٹھی چارج کا استعمال کیا جس کے بعد صورتحال مزید بگڑ گئی۔ سرکاری اسپتالوں کے ذرائع کے مطابق جاں بحق اور زخمی ہونے والے بیشتر افراد کو گولیاں لگیں۔ شہر کے مختلف علاقوں میں ٹریفک کی روانی متاثر رہی اور اہم شاہراہوں کو بند کر دیا گیا۔ ٹریفک پولیس نے شہریوں کو متبادل راستے اختیار کرنے کی ہدایت جاری کی

سندھ حکومت نے واقعے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے اعلیٰ سطحی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم تشکیل دینے کا اعلان کیا ہے تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ جھڑپوں کے اصل اسباب کیا تھے اور ذمہ دار عناصر کون ہیں۔ حکومتی بیان میں کہا گیا کہ پرامن احتجاج ہر شہری کا آئینی حق ہے تاہم سرکاری و نجی املاک کو نقصان پہنچانا اور قانون کو ہاتھ میں لینا کسی صورت قابل قبول نہیں۔ وزیر داخلہ سندھ نے حساس تنصیبات کی سیکیورٹی مزید سخت کرنے کی ہدایت بھی جاری کی

اسلام آباد میں دفعہ 144 نافذ ہر قسم کے اجتماعات پر پابندی

لاہور میں بھی سینکڑوں افراد امریکی قونصل خانے کے باہر جمع ہوئے جہاں مظاہرین نے امریکہ اور اسرائیل کے خلاف نعرے بازی کی۔ بعض مظاہرین قونصل خانے کی حدود میں داخل ہونے کی کوشش کرتے رہے تاہم پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے انہیں پیچھے دھکیل دیا۔ صورتحال کو قابو میں رکھنے کے لیے اضافی نفری تعینات کی گئی اور علاقے کو گھیرے میں لے لیا گیا

گلگت بلتستان میں احتجاج نے شدت اختیار کی جہاں اسکردو میں کرفیو نافذ کر دیا گیا۔ مشتعل مظاہرین نے بعض سرکاری دفاتر اور بین الاقوامی اداروں کی عمارتوں کو نقصان پہنچایا۔ حکام کے مطابق حالات پر قابو پانے کے لیے فوج کو طلب کیا گیا جبکہ غیر ملکی سیاحوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا گیا ہے۔ شاہراہ قراقرم سمیت کئی اہم سڑکیں بند رہیں جس سے آمدورفت معطل ہو گئی

وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں ضلعی انتظامیہ نے دفعہ ایک سو چوالیس نافذ کرتے ہوئے ہر قسم کے اجتماعات پر پابندی عائد کر دی ہے۔ ریڈ زون جانے والے تمام راستے بند کر دیے گئے اور شہریوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ کسی غیر قانونی اجتماع کا حصہ نہ بنیں

حکام کا کہنا ہے کہ صورتحال پر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے اور امن و امان برقرار رکھنے کے لیے تمام ضروری اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ ملک کے مختلف حصوں میں کشیدگی کے باعث عوام میں تشویش پائی جاتی ہے تاہم حکومت نے یقین دہانی کرائی ہے کہ ذمہ داران کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی اور شہریوں کے جان و مال کا تحفظ ہر صورت یقینی بنایا جائے گا

متعلقہ پوسٹس