ایران اور لبنان میں ہلاکتوں کی تعداد 600 سے تجاوز
خطے میں کشیدگی میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے اسرائیل اور امریکا کی جانب سے ایران پر تازہ حملوں کے بعد ایران اور لبنان میں ہلاکتوں کی تعداد 600 سے تجاوز کر گئی ہے اسرائیلی فورسز نے تہران اور بیروت میں فضائی حملے جاری رکھے ہیں جن میں ایرانی ریاستی نشریاتی ادارے کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے ایران میں حملوں کے بعد انسانی نقصان اور بنیادی ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچا ہے
سعودی عرب کے حکام کے مطابق ریاض میں امریکی سفارت خانے پر دو ڈرون حملے ہوئے جن کے نتیجے میں محدود آگ بھڑکی اور معمولی نقصان ہوا امریکی اور اسرائیلی فضائی حملوں کے بعد سعودی حکام نے حفاظتی اقدامات مزید سخت کر دیے ہیں تاکہ کسی بڑے نقصان سے بچا جا سکے اس دوران ایران نے ہرمز کی تنگی بند کرنے کا اعلان کیا ہے جس سے عالمی تیل کی سپلائی پر بھی اثر پڑنے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے
ایران کے ایٹمی توانائی کے سربراہ محمد اسلامی کے مطابق ہفتے کے اختتام پر ایرانی نیوکلیئر سائٹ نطنز پر امریکا اور اسرائیل کے دو تازہ حملے کیے گئے ہیں سیٹلائٹ تصاویر سے نطنز کی عمارتوں اور تنصیبات کو پہنچنے والے نقصان کی واضح معلومات ملتی ہیں حملوں کے نتیجے میں ایران کی ایٹمی صلاحیت پر بھی خطرہ پیدا ہو گیا ہے اور خطے میں سیاسی اور فوجی کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے
اسی دوران امریکی جیولوجیکل سروے کے مطابق ایران کے گراش علاقے میں 4.3 شدت کا زلزلہ آیا ہے زلزلے کی گہرائی تقریباً 10 کلومیٹر تھی ابتدائی رپورٹ کے مطابق ابھی تک جانی نقصان کی تصدیق نہیں ہوئی ہے تاہم مقامی انتظامیہ نے لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کی ہدایت جاری کی ہے زلزلے اور فضائی حملوں کے اثرات نے ایرانی عوام میں خوف اور بے چینی پیدا کر دی ہے
گراش میں 4.3 شدت کا زلزلہ
خطے کی صورتحال کے پیش نظر عالمی برادری نے شدید تشویش کا اظہار کیا ہے اقوام متحدہ اور یورپی ممالک نے تمام فریقین پر زور دیا ہے کہ وہ تنازع کو بڑھانے سے گریز کریں اور مذاکرات کے ذریعے حل تلاش کریں عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں بھی اضافہ دیکھنے کو ملا ہے کیونکہ ہرمز کی تنگی کے بند ہونے سے عالمی رسد متاثر ہو رہی ہے
ایران میں حملوں کے بعد حکومت نے عوام کے لیے ہنگامی صورتحال نافذ کر دی ہے جبکہ لبنانی حکام نے اپنے شہریوں کو محفوظ مقامات پر رہنے کی ہدایت دی ہے اسرائیل اور امریکا نے حملوں کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ اقدام ان کے قومی سلامتی کے لیے ضروری تھا تاہم خطے میں امن و استحکام کے لیے عالمی تنظیمیں اقدامات کرنے پر زور دے رہی ہیں
خطے کی موجودہ کشیدہ صورتحال میں انسانی ہمدردی کی ضرورت بڑھ گئی ہے امدادی تنظیمیں زخمیوں اور متاثرہ خاندانوں کی مدد کے لیے سرگرم ہیں جبکہ مقامی انتظامیہ حملوں کے بعد نقصانات کی فوری پیمائش کر رہی ہے اور متاثرہ علاقوں میں ابتدائی بحالی کے کام شروع کر دیے گئے ہیں تجزیہ کاروں کے مطابق اگر موجودہ حالات میں فوری سیاسی مذاکرات نہ ہوئے تو خطے میں مزید عدم استحکام پیدا ہو سکتا ہے
خطے کی سلامتی اور عوام کی حفاظت کے لیے تمام متعلقہ ممالک کو ذمہ داری کے ساتھ رویہ اپنانے کی ضرورت ہے تاکہ انسانی جانوں کا تحفظ ہو سکے اور مزید اقتصادی و سیاسی نقصان سے بچا جا سکے عالمی دنیا کی نظریں اب ایران، لبنان، سعودی عرب اور اسرائیل کی جانب مرکوز ہیں کہ یہ ممالک کس طرح کشیدگی کو کم کرنے کے لیے اقدامات کرتے ہیں

