میناب میں 165 کمسن طلبہ کی اجتماعی نماز جنازہ ادا
ایران کے جنوبی صوبے ہرمزگان کے شہر میناب میں منگل کے روز ایک دل دہلا دینے والی فضا دیکھنے میں آئی جب 165 کمسن طلبہ و طالبات کی اجتماعی نماز جنازہ ادا کی گئی جنہیں مبینہ طور پر امریکی اور اسرائیلی فضائی حملے میں جان سے ہاتھ دھونا پڑا اس سانحے نے نہ صرف ایران بلکہ پوری دنیا کو سوگ میں مبتلا کر دیا ہے
مقامی حکام کے مطابق شجرہ طیّبہ اسکول کی دو منزلہ عمارت کو ہفتے کے روز نشانہ بنایا گیا عمارت کے نچلے حصے میں لڑکوں کا جبکہ پہلی منزل پر لڑکیوں کا پرائمری اسکول قائم تھا حملے کے نتیجے میں 165 بچے جاں بحق اور تقریباً 100 افراد زخمی ہوئے جن میں اساتذہ اور اسکول کا عملہ بھی شامل ہے
جنازے کے موقع پر ہزاروں سوگوار شہری سڑکوں پر موجود تھے چھوٹے چھوٹے تابوتوں پر ایرانی پرچم لپیٹے گئے تھے جبکہ کئی تابوتوں پر معصوم بچوں کی تصاویر آویزاں تھیں شہر کی فضا آہوں اور سسکیوں سے گونج رہی تھی والدین اپنے پیاروں کو آخری بار رخصت کرتے ہوئے بے قابو دکھائی دیے سرکاری ٹیلی وژن پر نشر ہونے والی تصاویر میں سفید کفنوں میں لپٹے بچوں کے جسد خاکی دیکھ کر ہر آنکھ اشکبار تھی
صوبہ ہرمزگان کے چیف جسٹس مجتبی قہرمانی کے مطابق اب تک 140 بچوں کی شناخت مکمل کر لی گئی ہے اور ان کے تدفین کے اجازت نامے جاری کر دیے گئے ہیں جبکہ 25 لاشوں کی شناخت کا عمل تاحال جاری ہے میناب کے پراسیکیوٹر نے اس واقعے کو مجرمانہ اور سفاکانہ حملہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ شہید ہونے والوں میں چند والدین اور تعلیمی عملے کے ارکان بھی شامل ہیں
اقوام متحدہ کی غیر جانبدارانہ انکوائری کی اپیل
اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے دفتر نے اس واقعے پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے فوری غیر جانبدار اور شفاف تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق وولکر ترک کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا
کہ حملے کے ذمہ دار عناصر پر لازم ہے کہ وہ اس واقعے کی مکمل تحقیقات کریں اور حقائق دنیا کے سامنے لائیں ترجمان روینا شمدا سانی نے اسے ہولناک سانحہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی تصاویر تباہی اور بے حسی کی عکاسی کرتی ہیں
اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے یونیسکو نے بھی اس حملے کو بین الاقوامی انسانی قوانین کی سنگین خلاف ورزی قرار دیا ہے ادارے کے مطابق تعلیمی ادارے اور طلبہ جنگی قوانین کے تحت محفوظ ہوتے ہیں اور اسکولوں کو نشانہ بنانا تعلیم کے بنیادی حق کو مجروح کرنا ہے
امریکا اور اسرائیل نے باضابطہ طور پر اس حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی تاہم امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ پینٹاگون اس واقعے کی تحقیقات کر رہا ہے ان کا کہنا تھا کہ امریکی افواج دانستہ طور پر کسی اسکول کو نشانہ نہیں بناتیں ایرانی حکام کا دعویٰ ہے کہ یہ دھماکہ جنگ کے پہلے ہی روز پیش آیا اور اسے حالیہ کشیدگی میں شہری ہلاکتوں کا سب سے بڑا واقعہ قرار دیا جا رہا ہے
میناب کے ایک پارکنگ ایریا سے بنائی گئی ویڈیو میں تباہ شدہ عمارت سے سیاہ دھواں اٹھتا دیکھا گیا عمارت کی دیواروں پر بنے رنگ برنگے پنسلوں اور بچوں کے خاکے اس سانحے کے بعد ایک دردناک منظر پیش کر رہے تھے یہ حملہ خطے میں جاری کشیدگی کو مزید گہرا کر گیا ہے اور عالمی برادری کی نظریں اب ممکنہ تحقیقات اور آئندہ کے اقدامات پر مرکوز ہیں

