روسی تیل کی فروخت پر امریکی اجازت کے بعد بھارت میں سیاسی ہنگامہ
بھارت کی داخلی سیاست میں ایک نیا تنازع اس وقت سامنے آیا جب امریکہ نے روسی تیل کی فروخت سے متعلق عارضی اجازت دی جس کے بعد بھارت کی بڑی اپوزیشن جماعت انڈین نیشنل کانگریس نے وزیر اعظم نریندر مودی کی حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ کانگریس کا کہنا ہے کہ اس فیصلے سے یہ سوال پیدا ہو گیا ہے کہ کیا بھارت واقعی اپنی خارجہ اور معاشی پالیسی میں مکمل طور پر خودمختار ہے یا نہیں۔
امریکی حکومت نے حال ہی میں ایک محدود مدت کے لیے روسی تیل کی فروخت کی اجازت دی ہے جو سمندر میں پھنس گیا تھا تاکہ اسے بھارت کو فروخت کیا جا سکے۔ اس فیصلے کا مقصد عالمی منڈی میں تیل کی فراہمی کو برقرار رکھنا بتایا گیا ہے کیونکہ مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث توانائی کی منڈی میں غیر یقینی صورتحال پیدا ہو چکی ہے۔ خاص طور پر حالیہ دنوں میں ایران اور مغربی ممالک کے درمیان بڑھتے ہوئے تنازعات نے عالمی توانائی کی صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے
کانگریس پارٹی نے اس معاملے پر شدید ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ اگر کسی ملک کو یہ فیصلہ کرنا پڑے کہ وہ کس ملک سے تیل خرید سکتا ہے اور کس سے نہیں تو اس سے اس کی خودمختاری پر سوال اٹھتا ہے پارٹی کے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ بھارت ایک آزاد اور خودمختار ملک ہے اور اسے کسی بھی بیرونی طاقت سے اجازت لینے کی ضرورت نہیں ہونی چاہیے
پارٹی نے مزید کہا کہ موجودہ حکومت کی پالیسیوں نے بھارت کو ایسے مقام پر لا کھڑا کیا ہے جہاں اہم اقتصادی فیصلوں پر بھی بیرونی دباؤ محسوس کیا جا رہا ہے۔ کانگریس کے مطابق توانائی کی پالیسی جیسے اہم معاملات میں قومی مفاد کو اولین ترجیح دی جانی چاہیے
مریکی فیصلے کے بعد بھارت میں سیاسی تنازع شدت اختیار کر گیا
دوسری جانب حکومت کے حامی حلقوں کا کہنا ہے کہ عالمی توانائی منڈی اس وقت انتہائی حساس مرحلے سے گزر رہی ہے اور مختلف ممالک اپنی اقتصادی ضروریات اور سفارتی تعلقات کے مطابق فیصلے کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق تیل کی عالمی تجارت پر پابندیاں اور پابندیوں میں نرمی جیسے اقدامات بین الاقوامی سیاست کا حصہ ہیں اور انہیں اسی تناظر میں دیکھنا چاہیے۔
امریکی حکام کا کہنا ہے کہ یہ اجازت صرف محدود مدت کے لیے دی گئی ہے اور اس کا مقصد عالمی منڈی میں تیل کی فراہمی کو برقرار رکھنا ہے تاکہ قیمتوں میں شدید اتار چڑھاؤ نہ آئے۔ ان کے مطابق اس اقدام سے روس کو زیادہ مالی فائدہ نہیں ہوگا کیونکہ اس میں صرف وہی تیل شامل ہے جو پہلے سے سمندر میں موجود جہازوں پر لدا ہوا تھا۔
یاد رہے کہ اس سے قبل امریکہ اور اس کے اتحادی روس پر مختلف معاشی پابندیاں عائد کر چکے ہیں۔ یہ پابندیاں بنیادی طور پر اس وقت سخت کی گئیں جب روس نے یوکرین کے خلاف فوجی کارروائی شروع کی تھی۔ اس کے بعد عالمی سطح پر روسی توانائی کی تجارت کو محدود کرنے کی کوششیں کی گئیں۔
موجودہ صورتحال نے ایک بار پھر عالمی توانائی سیاست کو مرکزِ بحث بنا دیا ہے۔ بھارت جیسے بڑے توانائی صارف ممالک کے لیے یہ فیصلہ کرنا آسان نہیں کہ وہ اپنے معاشی مفادات کو کیسے محفوظ رکھیں اور ساتھ ہی عالمی سیاسی دباؤ کو بھی کیسے متوازن رکھیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق آنے والے دنوں میں توانائی کی عالمی منڈی اور بین الاقوامی تعلقات دونوں پر اس معاملے کے اثرات دیکھنے کو مل سکتے ہیں جبکہ بھارت کے اندر بھی اس مسئلے پر سیاسی بحث مزید تیز ہونے کا امکان ہے

