ایران میں نئی قیادت اور جنگ کے دسویں دن کی صورتحال
مشرقِ وسطیٰ میں جاری شدید کشیدگی کے درمیان جنگ کا دسواں دن ایک اہم سیاسی پیش رفت کے ساتھ شروع ہوا۔ ایران کی ماہرین کونسل نے آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای کو ملک کا نیا رہبر مقرر کر دیا ہے یہ تبدیلی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ایران مسلسل عسکری دباؤ کا سامنا کر رہا ہے۔ تاہم قیادت کی یہ منتقلی بغیر کسی ہنگامے کے مکمل ہوئی جسے ایران کے سیاسی نظام کے تسلسل اور استحکام کی علامت قرار دیا جا رہا ہے۔
ایران کے اندر اس فیصلے کو فوری طور پر انقلابی حلقوں، سیاسی قیادت اور عسکری اداروں کی مکمل حمایت حاصل ہوئی۔ سرکاری ذرائع ابلاغ نے اس تقرری کو جنگی حالات میں استحکام کا پیغام قرار دیا۔ ملک کے بڑے شہروں میں کسی قسم کی بدامنی یا احتجاج کی اطلاعات سامنے نہیں آئیں، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ عوام کی بڑی تعداد اس فیصلے کو قبول کر چکی ہے
ایران کی نئی قیادت کو خطے میں موجود اس کے اتحادی حلقوں کی جانب سے بھی فوری حمایت حاصل ہوئی۔ لبنان، عراق اور یمن میں ایران کے حامی گروہوں نے نئی قیادت کو تسلیم کرتے ہوئے وفاداری کا اظہار کیا۔ اس اقدام سے یہ تاثر مضبوط ہوا ہے کہ ایران کے اتحادیوں کا علاقائی اتحاد بدستور منظم اور فعال رہے گا
دوسری جانب جنگ کے حوالے سے عالمی طاقتوں کے مؤقف میں بھی کچھ فرق نمایاں ہونا شروع ہو گیا ہے۔ امریکی حکام کے مطابق طویل جنگ کے باعث اسلحے کے ذخائر اور مالی اخراجات پر دباؤ بڑھ رہا ہے
مریکہ اور اسرائیل کی حکمت عملی میں فرق نمایاں ہونے لگا
امریکہ کے اندر بھی جنگ کے اخراجات اور معاشی اثرات کے باعث عوامی سطح پر تشویش میں اضافہ ہو رہا ہے اس کے برعکس اسرائیل ایران پر فوجی دباؤ برقرار رکھنے کے لیے اپنے حملوں کا دائرہ وسیع کرتا دکھائی دے رہا ہے
اسرائیل کے اندر بھی دفاعی حلقوں میں یہ بحث شروع ہو چکی ہے کہ جنگ کا اختتام کس طرح ممکن ہوگا۔ بعض ماہرین کے مطابق مسلسل جنگ اسرائیل کے معاشی اور علاقائی مفادات کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے، خاص طور پر جب خطے میں کشیدگی کے اثرات بڑھتے جا رہے ہیں۔
معاشی سطح پر بھی اس جنگ کے اثرات نمایاں ہو رہے ہیں۔ تیل کی تنصیبات پر حملوں اور آگ لگنے کے واقعات کے بعد عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں تیزی دیکھی گئی ہے۔ توانائی کی ترسیل سے جڑے راستوں پر خطرات بڑھنے کے باعث جہاز رانی کے اخراجات میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔
ماہرین کے مطابق یہ جنگ اب صرف عسکری مقابلہ نہیں رہی بلکہ عالمی معیشت اور علاقائی استحکام کے لیے ایک بڑا امتحان بن چکی ہے۔ اگر کشیدگی میں کمی نہ آئی تو اس کے اثرات مشرقِ وسطیٰ سے نکل کر پوری دنیا کی معیشت اور سیاست کو متاثر کر سکتے ہیں

