سری لنکا اور بھارت میں ایرانی بحری عملے کی میزبانی اور سفارتی چیلنج
بحیرہ ہند میں ایران پر حالیہ حملوں کے بعد سری لنکا اور بھارت کو ایرانی بحری عملے کی میزبانی کے معاملے میں ایک نازک اور پیچیدہ صورتحال کا سامنا ہے تین ایرانی بحری جہاز مختلف مقامات پر پہنچے جن میں کل 434 اہلکار سوار تھے اور امریکی حملوں یا خطرے کے بعد یہ اہلکار محفوظ طریقے سے سری لنکا اور بھارت میں منتقل ہوئے
سب سے پہلے ایرانی فریگیٹ ڈینا پر امریکی سب میرین سے حملہ ہوا جہاز سری لنکا کی سرحدی حدود کے قریب ڈوب گیا اس جہاز پر 130 سے 180 اہلکار سوار تھے جن میں کم از کم 84 جان بحق ہو گئے سری لنکا نے 32 اہلکاروں کو بچایا اور انہیں کوگالا فضائی اڈے پر عارضی طور پر رکھا گیا جہاں انہیں ابتدائی طبی امداد بھی فراہم کی گئی
دوسرا جہاز لاوان جو ایک ایمفیبیئس لینڈنگ شپ ہے بھارت کے جنوبی بندرگاہ کوچی پہنچا اس پر 183 اہلکار سوار تھے جنہیں بھارتی بحریہ کی زیر نگرانی محفوظ مقامات پر رکھا گیا تاکہ انہیں کسی بھی خطرے سے بچایا جا سکے تیسرا جہاز بوشہر سپلائی جہاز کے طور پر سری لنکا میں داخل ہوا
جس پر 219 اہلکار سوار تھے جن میں سے 15 اہلکار جہاز پر رہ کر سری لنکا کی بحریہ کی معاونت کر رہے ہیں باقی اہلکار کو بحریہ کی زیر نگرانی محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا گیا اس طرح سری لنکا میں کل 251 ایرانی اہلکار میزبانی کے تحت ہیں
سری لنکا اور بھارت نے کہا کہ یہ فیصلہ انسانی ہمدردی کی بنیاد پر کیا گیا ہے اور کسی بھی فریق کے حق میں نہیں کیا گیا سری لنکا کے صدر انورا کمار دسانائے نے کہا کہ ہر انسان کی زندگی اہمیت کی حامل ہے
سری لنکا میں 251 جبکہ بھارت میں 183 ایرانی اہلکار موجود
اور اسی اصول کے تحت اہلکاروں کی میزبانی کی گئی بھارت کے وزیر خارجہ سبرامنم جائشنکر نے بھی کہا کہ ایرانی وزیر خارجہ نے انسانی ہمدردی کے اس اقدام پر شکریہ ادا کیا
سری لنکا کے سرکاری ذرائع نے بتایا کہ مختلف بین الاقوامی معاہدوں اور قوانین کی بنیاد پر اہلکاروں کو مختلف طریقے سے رکھا جا رہا ہے ڈوبنے والے جہاز ڈینا کے 32 زندہ بچ جانے والے اہلکار بین الاقوامی انسانی قوانین کے تحت واپسی کے اہل ہیں جبکہ جہاز بوشہر کے 219 اہلکار ہالینڈ کے 1907 کے ہاگ کنونشن کے تحت جنگ ختم ہونے تک سری لنکا میں محفوظ رہیں گے
سری لنکا اور بھارت کی کوشش ہے کہ انسانی ہمدردی، بین الاقوامی قوانین اور علاقائی توازن کے اصولوں کو برقرار رکھا جائے تاکہ کسی بھی قسم کے سفارتی بحران یا عسکری ردعمل سے بچا جا سکے عالمی ادارے اور بحری قوانین کی رہنمائی اس سلسلے میں اہم کردار ادا کر رہی ہے
بحیرہ ہند میں یہ واقعہ نہ صرف ایران اور امریکہ کے درمیان جاری کشیدگی کا عکس ہے بلکہ جنوبی ایشیا کے لیے بھی ایک پیچیدہ سفارتی صورتحال پیدا کر رہا ہے سری لنکا اور بھارت دونوں ممالک اپنی غیر جانبداری اور انسانی ہمدردی کے اصولوں کو مدنظر رکھتے ہوئے ایرانی ملاحوں کی حفاظت کر رہے ہیں تاکہ علاقائی توازن قائم رہے اور انسانی جانوں کا تحفظ ممکن ہو سکے
یہ اقدام عالمی سطح پر انسانی حقوق اور بین الاقوامی قوانین کی پاسداری کی ایک مثال بھی پیش کرتا ہے اور خطے میں دیگر ممالک کے لیے ایک سبق ہے کہ بحران کے دوران انسانی ہمدردی اور قانونی اصولوں کو ترجیح دی جا سکتی ہے

