Sat. Mar 14th, 2026

ٹرمپ نے ایران کے جزیرہ خارگ پر بڑے پیمانے پر امریکی فضائی حملے کے احکامات جاری کیے

رمپ نے ایران کے جزیرہ خارگ پر بڑے پیمانے پر امریکی فضائی حملے کے احکامات جاری کیے – مکمل رپورٹ امریکی فوج نے ایران پر حملہ کیا: جزیرہ خارگ کے اہداف ٹرمپ کے حکم پر تباہ جزیرہ خارگ پر حملہ: ٹرمپ نے ایرانی فوجی تنصیبات کی مکمل تباہی کا دعویٰ کیا تازہ ترین خبر: امریکہ نے ایران کے سٹریٹجک جزیرہ خارگ پر طاقتور بمباری کی ٹرمپ نے ایران کو خبردار کیا: جزیرہ خارگ کے فوجی اڈوں پر امریکی فضائی حملے کے بعد
رمپ نے ایران کے جزیرہ خارگ پر بڑے پیمانے پر امریکی فضائی حملے کے احکامات جاری کیے – مکمل رپورٹ امریکی فوج نے ایران پر حملہ کیا: جزیرہ خارگ کے اہداف ٹرمپ کے حکم پر تباہ جزیرہ خارگ پر حملہ: ٹرمپ نے ایرانی فوجی تنصیبات کی مکمل تباہی کا دعویٰ کیا تازہ ترین خبر: امریکہ نے ایران کے سٹریٹجک جزیرہ خارگ پر طاقتور بمباری کی ٹرمپ نے ایران کو خبردار کیا: جزیرہ خارگ کے فوجی اڈوں پر امریکی فضائی حملے کے بعد

امریکی حملہ جزیرہ خارگ پر

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکہ نے ایرانی جزیرہ خارگ پر بڑے پیمانے پر فوجی حملے کیے ہیں جس میں امریکی افواج نے اہم فوجی اہداف کو مکمل طور پر تباہ کر دیا ہے یہ حملہ مشرق وسطیٰ کی تاریخ کے سب سے طاقتور بمباری کے طور پر بیان کیا گیا ہے جسے صدر ٹرمپ نے براہ راست اپنے احکامات کے تحت انجام دینے کا کہا ہے امریکی صدر کے مطابق یہ آپریشن جزیرہ خارگ پر واقع فوجی تنصیبات کو نشانہ بنانے کے لیے کیا گیا تھا یہ جزیرہ خلیج فارس میں ایران کا ایک اہم سٹریٹجک مقام ہے اور ملک کی تیل کی برآمدات کا اہم مرکز بھی ہے

ٹرمپ نے بتایا کہ امریکی افواج نے جزیرہ خارگ کی تمام فوجی تنصیبات کو مکمل طور پر تباہ کر دیا ہے اور اس کارروائی میں جزیرہ کی تیل کی بنیادی ڈھانچے کو نقصان نہیں پہنچایا گیا ہے کیونکہ یہ عالمی توانائی کی مارکیٹ کے لیے اہم ہے انہوں نے کہا کہ ہمارے ہتھیار دنیا کے سب سے طاقتور اور جدید ہیں لیکن اخلاقی وجوہات کی بنیاد پر میں نے جزیرہ کے تیل کے بنیادی ڈھانچے کو محفوظ رکھنے کا فیصلہ کیا ہے

جزیرہ خارگ ایران کے تیل کے نظام کی ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے اور یہاں سے ملک کی زیادہ تر خام تیل کی برآمدات ہوتی ہیں جزیرہ کی جغرافیائی اہمیت کی وجہ سے یہ دنیا کے اہم سمندری تجارتی راستوں کے قریب ہے جہاں سے عالمی تیل کی ایک بڑی مقدار گزرتی ہے صدر ٹرمپ نے ایران کو سخت انتباہ دیا ہے کہ اگر کسی بھی طرح کی کوشش کی گئی کہ بین الاقوامی جہاز رانی کے راستے متاثر ہوں تو وہ فوراً اپنے فیصلے پر نظر ثانی کریں گے

علاقائی کشیدگی اور عالمی ردعمل

یہ حملہ اس وقت ہوا ہے جب مشرق وسطیٰ میں امریکہ اسرائیل اور ایران کے درمیان فوجی کشیدگی بڑھ رہی ہے ٹرمپ نے دوبارہ زور دیا کہ ایران کو کبھی بھی جوہری ہتھیار حاصل نہیں ہونے چاہیے اور نہ ہی وہ امریکہ مشرق وسطیٰ یا دنیا کے کسی حصے کو خطرے میں ڈال سکتا ہے انہوں نے کہا کہ ایران کبھی بھی جوہری ہتھیار نہیں رکھے گا اور نہ ہی اس کے پاس دنیا یا خطے کو خطرہ پہنچانے کی صلاحیت ہوگی

عالمی مبصرین کا کہنا ہے کہ جزیرہ خارگ پر یہ حملہ توانائی کی عالمی مارکیٹ میں اہم اثر ڈال سکتا ہے اور خطے میں کشیدگی بڑھنے کا خدشہ ہے ساتھ ہی خلیج میں تیل کی سپلائی اور سمندری سیکورٹی کے مسائل پیدا ہو سکتے ہیں یہ صورتحال بین الاقوامی سطح پر بھی تشویش پیدا کر رہی ہے کیونکہ خلیج فارس دنیا کی توانائی کی ترسیل میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے جبکہ امریکہ کی یہ کارروائی خطے میں اپنے فوجی اثر و رسوخ کو مضبوط کرنے اور ایران کو انتباہ دینے کے لیے کی گئی ہے

صدر ٹرمپ نے مزید کہا کہ امریکی افواج نے اپنے اعلیٰ درجے کے ہتھیار استعمال کیے ہیں اور اس کارروائی میں مکمل احتیاط برتی گئی ہے تاکہ غیر ضروری نقصان نہ ہو جبکہ عالمی برادری نے بھی اس اقدام پر نظر رکھی ہوئی ہے کہ یہ خطے میں کس طرح کے نتائج پیدا کرے گا

متعلقہ پوسٹس