مشرق وسطیٰ کی جنگ نے ماحول کو بھی شدید نقصان پہنچانا شروع کر دیا
مشرق وسطیٰ میں جاری جنگ صرف انسانی جانوں اور معیشت کو ہی متاثر نہیں کر رہی بلکہ اس کے ماحول اور قدرتی نظام پر بھی گہرے اثرات مرتب ہو رہے ہیں ماہرین کے مطابق جنگی کارروائیوں میں استعمال ہونے والا فوجی سازوسامان اور ایندھن فضا میں بڑی مقدار میں گرین ہاؤس گیسیں خارج کرتا ہے
جس سے عالمی درجہ حرارت میں اضافہ اور موسمیاتی تبدیلی کا خطرہ مزید بڑھ جاتا ہے جنگ کے دوران لڑاکا طیاروں کی پروازیں بحری بیڑوں کی نقل و حرکت اور فوجی اڈوں کی مسلسل سرگرمیاں توانائی کے وسیع استعمال کا باعث بنتی ہیں جس کے نتیجے میں ماحول پر اضافی دباؤ پڑتا ہے
ماہرین کا کہنا ہے کہ جنگی طیارے اور بحری جہاز بڑی مقدار میں ایندھن استعمال کرتے ہیں اور ان کی وجہ سے کاربن ڈائی آکسائیڈ اور دیگر مضر گیسیں فضا میں شامل ہوتی ہیں اس کے علاوہ جنگ کے دوران فوجیوں کی بڑی تعداد کی رہائش خوراک اور دیگر ضروریات پوری کرنے کے لیے بھی توانائی کی بھاری مقدار درکار ہوتی ہے
جس کے لیے اکثر ڈیزل سے چلنے والے جنریٹر استعمال کیے جاتے ہیں جو مزید آلودگی پیدا کرتے ہیں اگرچہ بعض بڑے جنگی بحری جہاز جوہری توانائی سے چلتے ہیں لیکن اس کے باوجود جنگی سرگرمیوں کے مجموعی اثرات ماحول کے لیے نقصان دہ ثابت ہوتے ہیں
ماہرین کا انتباہ جنگیں موسمیاتی تبدیلی کو مزید تیز کر رہی ہیں
ماہرین جنگ کے ماحولیاتی اثرات کا اندازہ لگاتے وقت صرف فوجی کارروائیوں کو نہیں بلکہ اسلحہ اور دھماکہ خیز مواد کی تیاری جنگ کے بعد تباہ شدہ علاقوں کی تعمیر نو اور قدرتی وسائل کے نقصان کو بھی شامل کرتے ہیں ایک تحقیق کے مطابق غزہ میں ہونے والی لڑائی کے نتیجے میں تقریباً تین کروڑ تیس لاکھ ٹن کاربن ڈائی آکسائیڈ کے برابر گیسیں فضا میں شامل ہوئیں جو ایک چھوٹے ملک کے سالانہ اخراج کے برابر سمجھی جاتی ہیں اسی طرح یوکرین میں جاری جنگ کے بارے میں اندازہ لگایا گیا ہے کہ اس سے تین سو ملین ٹن سے زیادہ اضافی اخراج پیدا ہوا جو ایک بڑے یورپی ملک کے سالانہ اخراج کے برابر ہے
مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی خاص طور پر آبنائے ہرمز کے ارد گرد بھی دیکھی جا رہی ہے یہ سمندری راستہ دنیا کے لیے تیل اور گیس کی ترسیل کا نہایت اہم ذریعہ ہے اس خطے میں تیل بردار جہازوں آئل ریفائنریوں اور ذخیرہ گاہوں کو نشانہ بنائے جانے سے نہ صرف عالمی توانائی منڈی متاثر ہوتی ہے بلکہ ماحول کے لیے بھی سنگین خطرات پیدا ہوتے ہیں تیل کے ذخائر میں لگنے والی آگ سے اٹھنے والا سیاہ دھواں فضا کو آلودہ کرتا ہے اور اس کے اثرات دور دراز علاقوں تک محسوس کیے جا سکتے ہیں
عالمی تنازعات کا ایک اور نقصان ماحول کی تباہی
ماہرین یاد دلاتے ہیں کہ ماضی میں خلیجی جنگ کے دوران کویت میں تیل کے کنوؤں کو آگ لگائے جانے سے مہینوں تک دھواں اٹھتا رہا تھا جس سے کروڑوں ٹن کاربن ڈائی آکسائیڈ فضا میں شامل ہوئی تھی اسی طرح موجودہ تنازعات میں بھی توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے سے شدید ماحولیاتی نقصان کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے
جنگ کے ماحولیاتی اثرات صرف موسمیاتی تبدیلی تک محدود نہیں رہتے بلکہ فضائی آلودگی پانی کی آلودگی اور مٹی میں زہریلے مادوں کے پھیلاؤ کا سبب بھی بنتے ہیں تیل کے ذخائر اور ایندھن کے مراکز پر حملوں کے بعد زہریلا دھواں اور کیمیائی مادے فضا اور پانی میں شامل ہو جاتے ہیں جو انسانی صحت اور قدرتی حیات کے لیے خطرناک ثابت ہوتے ہیں
ماہرین کے مطابق ایران اور اس کے پڑوسی علاقوں میں متعدد توانائی تنصیبات اور فوجی مراکز کو نقصان پہنچنے سے آلودگی کے خطرات بڑھ گئے ہیں خاص طور پر خلیج فارس کا حساس سمندری ماحول ان واقعات سے متاثر ہو سکتا ہے جس سے سمندری حیات اور ساحلی آبادیوں کے لیے مسائل پیدا ہونے کا خدشہ ہے
ماہرین اس بات پر زور دیتے ہیں کہ جنگ کے اثرات کا جائزہ لیتے وقت ماحول اور موسمیاتی نظام کو بھی نظر انداز نہیں کیا جانا چاہیے کیونکہ قدرتی وسائل کو پہنچنے والا نقصان طویل مدت تک انسانوں اور زمین دونوں کے لیے مشکلات پیدا کر سکتا ہے

