پاکستان نے افغان قیدیوں کی ملک واپسی کا آغاز کیا
پاکستان نے افغان قیدیوں کی ملک واپسی کا عمل شروع کر دیا ہے حکام کے مطابق طورخم سرحد کے ذریعے افغان قیدی افغان حکام کے حوالے کیے جا رہے ہیں یہ اقدام حکومت کی پالیسی کے تحت مرحلہ وار ملک واپسی کے پروگرام کا حصہ ہے پہلے مرحلے میں چالیس افغان قیدی لینڈی کوتل ہولڈنگ سینٹر سے کلیئر کر کے طورخم سرحد بھیجے گئے جہاں انہیں افغان حکام کے سپرد کیا گیا
حکام نے بتایا کہ مزید ایک سو پچاس افغان قیدی بھی ہولڈنگ سینٹر سے کلیئر ہو چکے ہیں اور انہیں بھی طورخم کی جانب روانہ کیا جا رہا ہے یہ ملک واپسی کا عمل پاکستان کی مختلف جیلوں میں قید افغان شہریوں کے لیے حکومتی اقدام کا حصہ ہے ذرائع کے مطابق افغان قیدیوں کو پہلے مختلف جیلوں سے لینڈی کوتل ہولڈنگ سینٹر منتقل کیا جاتا ہے جہاں ان کی مکمل جانچ پڑتال کے بعد انہیں ملک واپسی کے لیے تیار کیا جاتا ہے
آج چالیس قیدیوں کو کلیئر کر کے طورخم سرحد بھیجا گیا ہے ملک واپسی کا عمل مرحلہ وار حکومت کی پالیسی کے مطابق انجام دیا جا رہا ہے پہلے مرحلے میں جیلوں میں قید افغان قیدی واپس بھیجے جا رہے ہیں جبکہ دوسرے مرحلے میں پاکستان میں غیر قانونی طور پر مقیم افغان شہریوں کی واپسی کا عمل ہوگا
پاکستانی حکام کے مطابق ملک واپسی کے پروگرام کے تحت ہزاروں افغان شہری پاکستان کی مختلف جیلوں میں قید ہیں اور ان کی واپسی کو یقینی بنایا جا رہا ہے یہ عمل چھبیس فروری سے افغان پاکستان تعلقات میں کشیدگی کے باعث معطل تھا اسی طرح دو طرفہ تجارتی سرگرمیاں بارہ اکتوبر سے جاری کشیدگی کے باعث معطل ہیں
ملک واپسی کے دوران انسانی حقوق اور سہولیات
حکام نے بتایا کہ ملک واپسی کے دوران تمام افغان قیدیوں کی شناخت اور قانونی کارروائی مکمل کی جا رہی ہے تاکہ کوئی مسئلہ پیدا نہ ہو اس پروگرام کا مقصد افغان شہریوں کو ان کے وطن واپس بھیجنا اور پاکستان میں جیلوں میں موجود قیدیوں کی تعداد میں کمی کرنا ہے یہ اقدام انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے کیا جا رہا ہے
ملک واپسی کے دوران افغان قیدیوں کو مناسب سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں اور انہیں محفوظ طریقے سے افغان حکام کے حوالے کیا جا رہا ہے حکومت پاکستان کی پالیسی ہے کہ افغان شہریوں کی واپسی میں شفافیت اور انسانی ہمدردی کا خیال رکھا جائے تاکہ کوئی غیر ضروری مشکلات پیش نہ آئیں
ذرائع نے مزید بتایا کہ ملک واپسی کے عمل کا دوسرا مرحلہ جلد شروع کیا جائے گا جس میں پاکستان میں غیر قانونی طور پر مقیم افغان شہری بھی واپس بھیجے جائیں گے انتظامات مکمل کر لیے گئے ہیں اور دونوں ملکوں کے حکام کے درمیان رابطے جاری ہیں پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ ملک واپسی کے عمل سے پاکستان کی جیلوں میں موجود افغان قیدیوں کی تعداد میں کمی ہوگی اور افغان حکومت کے ساتھ تعاون بڑھانے میں مدد ملے گی اس پروگرام کے تحت تمام افغان قیدیوں کو مکمل جانچ پڑتال اور قانونی کارروائی کے بعد واپس بھیجا جا رہا ہے تاکہ دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات میں بہتری آئے

