پاکستان کے بڑے شہروں میں احتجاج اہم سڑکیں کئی گھنٹے بند
پاکستان کے مختلف بڑے شہروں میں جمعہ کے روز ایران کے حق میں اور امریکا و اسرائیل کے خلاف ہونے والے احتجاجی مظاہروں کے باعث کئی اہم شاہراہیں کئی گھنٹوں تک بند رہیں جس کے نتیجے میں شہریوں کو شدید ٹریفک مسائل کا سامنا کرنا پڑا۔ ان مظاہروں میں مذہبی جماعتوں اور مختلف تنظیموں کے کارکنان نے بڑی تعداد میں شرکت کی اور عالمی صورتحال کے خلاف سخت ردعمل کا اظہار کیا۔
کراچی میں ایک مذہبی تنظیم کی جانب سے نکالی گئی احتجاجی ریلی شہر کی ایک امام بارگاہ سے شروع ہوئی اور مرکزی شاہراہ سے ہوتی ہوئی دوسری امام بارگاہ تک پہنچی۔ اس دوران شہر کی اہم سڑکوں پر ٹریفک کی آمد و رفت عارضی طور پر معطل کر دی گئی۔ ٹریفک پولیس نے پہلے ہی شہریوں کو خبردار کیا تھا کہ احتجاج کے دوران کئی اہم راستے بند رہیں گے اور متبادل راستوں کا استعمال کیا جائے۔
احتجاج کے باعث شہر کی چند اہم ساحلی اور مرکزی شاہراہوں پر بھی ٹریفک کو محدود کر دیا گیا تھا تاکہ کسی ناخوشگوار صورتحال سے بچا جا سکے۔ مظاہرین نے ایران کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے امریکا اور اسرائیل کے خلاف شدید نعرے بازی کی اور مطالبہ کیا کہ عالمی طاقتیں مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کو فوری طور پر ختم کرنے کے لیے اقدامات کریں۔ بعد ازاں احتجاج ختم ہونے کے بعد ٹریفک پولیس نے اعلان کیا کہ مرکزی شاہراہوں کو دوبارہ ٹریفک کے لیے کھول دیا گیا ہے۔
کراچی کی مرکزی شاہراہوں پر ریلیاں ٹریفک نظام عارضی طور پر معطل
دوسری جانب دارالحکومت اسلام آباد میں بھی جمعہ کی نماز کے بعد مختلف مذہبی جماعتوں کے اتحاد کی جانب سے احتجاجی ریلی نکالی گئی۔ مظاہرین ایک امام بارگاہ سے مارچ کرتے ہوئے اہم سرکاری علاقے کی جانب بڑھنا چاہتے تھے تاہم سکیورٹی کے سخت انتظامات کے باعث انہیں ایک مقام پر روک دیا گیا جہاں انہوں نے احتجاجی اجتماع منعقد کیا۔
اسلام آباد میں سکیورٹی اداروں کی جانب سے پہلے ہی اعلان کیا گیا تھا کہ حساس سرکاری علاقوں کی طرف جانے والے بیشتر راستے بند رہیں گے جبکہ چند مخصوص شاہراہوں کو عوام کی سہولت کے لیے کھلا رکھا جائے گا۔ پولیس اور ٹریفک حکام نے شہریوں کو متبادل راستے استعمال کرنے کی ہدایت بھی جاری کی تھی تاکہ ٹریفک کے دباؤ کو کم کیا جا سکے۔
احتجاجی اجتماعات میں عالمی صورتحال پر سخت ردعمل
احتجاجی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے مختلف مذہبی رہنماؤں نے امریکا اور اسرائیل کی پالیسیوں کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ ان کا کہنا تھا کہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی نے خطے کے ساتھ ساتھ پوری دنیا کو عدم استحکام سے دوچار کر دیا ہے۔ مقررین نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ خطے میں امن قائم کرنے کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کرے۔
مقررین نے اس بات پر بھی زور دیا کہ عوام کو پرامن احتجاج کا حق حاصل ہے اور حکومت کو چاہیے کہ شہریوں کے جمہوری حقوق کا احترام کیا جائے۔ انہوں نے گزشتہ ہفتے ہونے والے مظاہروں میں ہلاکتوں اور زخمیوں کے واقعات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ ان واقعات کی شفاف تحقیقات کی جائیں اور ذمہ دار افراد کے خلاف کارروائی کی جائے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے اثرات دنیا کے مختلف ممالک میں عوامی ردعمل کی صورت میں سامنے آ رہے ہیں۔ پاکستان میں بھی عوامی سطح پر ہونے والے یہ احتجاج اسی سلسلے کی ایک کڑی ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر عالمی سطح پر حالات میں بہتری نہ آئی تو آئندہ دنوں میں مزید احتجاجی مظاہروں کا امکان بھی موجود ہے جس کے باعث انتظامیہ کو امن و امان برقرار رکھنے کے لیے مؤثر حکمت عملی اختیار کرنا ہوگی

