اسلام آباد ہائی کورٹ میں ایک سو نوے ملین پاؤنڈ کیس کی سماعت ملتوی بیس مئی نئی تاریخ مقرر
اسلام آباد میں اہم عدالتی پیش رفت سامنے آئی ہے جہاں اسلام آباد ہائی کورٹ نے ایک سو نوے ملین پاؤنڈ کیس کی سماعت کو بیس مئی تک ملتوی کر دیا ہے یہ فیصلہ پاکستان تحریک انصاف کے بانی چیئرمین عمران خان کے وکیل بیرسٹر سلمان صفدر کی درخواست پر کیا گیا اس کیس کو ملکی سیاست اور احتساب کے نظام میں انتہائی اہم سمجھا جا رہا ہے
عدالت نے اس سے قبل احتساب عدالت کی جانب سے سنائے گئے فیصلے کے خلاف دائر اپیلوں پر سماعت شروع کر رکھی تھی جس میں عمران خان اور بشریٰ بی بی کو سزائیں سنائی گئی تھیں عمران خان کو چودہ سال جبکہ بشریٰ بی بی کو سات سال قید کی سزا دی گئی تھی قومی احتساب بیورو کی جانب سے دائر اس ریفرنس میں مالی بے ضابطگیوں کے الزامات شامل ہیں
بیرسٹر سلمان صفدر نے عدالت میں درخواست دائر کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ انہیں اپنے مؤکل سے ملاقات اور قانونی ہدایات لینے کے لیے وقت درکار ہے کیونکہ اب تک پاور آف اٹارنی مکمل طور پر دستخط شدہ نہیں تھی جس کی وجہ سے مرکزی اپیل پر مکمل دلائل پیش کرنا ممکن نہیں تھا عدالت نے اس درخواست کو منظور کرتے ہوئے سماعت ملتوی کر دی
سماعت کے دوران نیب کے وکلا نے التوا کی درخواست کی مخالفت کی اور مؤقف اختیار کیا کہ کیس میں تاخیر سے انصاف کے عمل پر اثر پڑ سکتا ہے تاہم عدالت نے وکیل صفدر کو حتمی موقع دیتے ہوئے کہا کہ آئندہ سماعت پر مکمل دلائل پیش کیے جائیں
اڈیالہ جیل میں قید عمران خان کے خلاف مزید مقدمات بھی جاری
چیف جسٹس سردار محمد سرفراز ڈوگر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ یہ آخری موقع ہے اور آئندہ سماعت میں کیس کو آگے بڑھایا جائے گا عدالت نے اس امید کا اظہار بھی کیا کہ اگلی پیشی پر پیش رفت ہوگی
ایک سو نوے ملین پاؤنڈ کیس دراصل القادر ٹرسٹ سے متعلق ہے جسے دو ہزار اٹھارہ میں قائم کیا گیا تھا اس ٹرسٹ پر الزام ہے کہ اسے ایک کاروباری شخصیت کی جانب سے دی گئی زمین کے ذریعے مالی فائدہ حاصل کرنے کے لیے استعمال کیا گیا حکومت کا مؤقف ہے کہ برطانیہ سے واپس آنے والی رقم کو قومی خزانے میں جمع کرانے کے بجائے کسی اور مقصد کے لیے استعمال کیا گیا
دوسری جانب عمران خان نے ان تمام الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہوں نے کسی قسم کا مالی فائدہ حاصل نہیں کیا اور یہ کیس سیاسی بنیادوں پر بنایا گیا ہے
یہ کیس اس وقت مزید اہمیت اختیار کر گیا جب عدالت نے سزا معطلی کی درخواستوں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ مرکزی اپیل پہلے ہی مقرر ہے اور اسی میں تمام نکات پر غور کیا جائے گا عمران خان اس وقت اڈیالہ جیل میں قید ہیں جبکہ ان کے خلاف دیگر مقدمات بھی زیر سماعت ہیں
اس تمام صورتحال میں ایک سو نوے ملین پاؤنڈ کیس ملکی سیاست میں ایک مرکزی موضوع بن چکا ہے اور عوام کی نظریں اب بیس مئی کی سماعت پر مرکوز ہیں جہاں اس اہم کیس میں مزید پیش رفت متوقع ہے

