Sun. May 10th, 2026

ڪے پی درزی کی بیٹی نے 17 گولڈ میڈل جیت کر تاریخ رقم کر دی

درزی کی بیٹی نے 17 گولڈ میڈل جیت کر تاریخ رقم کر دی قندیل مرتضیٰ نے 17 گولڈ میڈل حاصل کر کے نیا ریکارڈ قائم کیا خیبر گرلز میڈیکل کالج میں درزی کی بیٹی کا شاندار کارنامہ ہری پور کی طالبہ نے 17 گولڈ میڈل جیت کر پاکستان کا نام روشن کیا غریب درزی کی بیٹی نے میڈیکل کالج میں 17 گولڈ میڈل کا ریکارڈ توڑ دیا
درزی کی بیٹی نے 17 گولڈ میڈل جیت کر تاریخ رقم کر دی قندیل مرتضیٰ نے 17 گولڈ میڈل حاصل کر کے نیا ریکارڈ قائم کیا خیبر گرلز میڈیکل کالج میں درزی کی بیٹی کا شاندار کارنامہ ہری پور کی طالبہ نے 17 گولڈ میڈل جیت کر پاکستان کا نام روشن کیا غریب درزی کی بیٹی نے میڈیکل کالج میں 17 گولڈ میڈل کا ریکارڈ توڑ دیا

ڪے پی میں درزی کی بیٹی نے 17 گولڈ میڈل حاصل کر کے تاریخ رقم کر دی

پشاور سے موصولہ اطلاعات کے مطابق خیبر گرلز میڈیکل کالج پشاور میں ایک شاندار اور یادگار تقریب کا انعقاد کیا گیا جس میں ذہین اور محنتی طالبات نے اپنی علمی صلاحیتوں کا بھرپور مظاہرہ کرتے ہوئے ریکارڈ تعداد میں گولڈ میڈل اپنے نام کیے اس تقریب میں سب سے نمایاں کارکردگی درزی کی بیٹی قندیل مرتضیٰ نے دکھائی جنہوں نے 17 گولڈ میڈل حاصل کر کے ایک نیا اور حیران کن ریکارڈ قائم کر دیا جس نے پورے ہال میں موجود تمام لوگوں کو دنگ کر دیا اور ہر طرف سے تالیوں کی گونج بلند ہو گئی

قندیل مرتضیٰ کون ہیں اور کہاں سے تعلق ہے

قندیل مرتضیٰ کا تعلق خیبر پختونخوا کے شہر ہری پور سے ہے اور ان کے والد ایک سادہ اور عام درزی ہیں جو اپنی محنت اور ہنر سے اپنے خاندان کا پیٹ پالتے ہیں لیکن انہوں نے ہمیشہ اپنے بچوں کی تعلیم کو سب سے زیادہ اہمیت دی اور اپنی محدود آمدنی کے باوجود کبھی بھی اپنے بچوں کی تعلیم میں کوئی کمی نہیں آنے دی یہی وجہ ہے کہ آج ان کی بیٹی قندیل مرتضیٰ نے 17 گولڈ میڈل حاصل کر کے نہ صرف اپنے خاندان بلکہ پورے ہری پور اور خیبر پختونخوا کا نام روشن کر دیا ہے

17 گولڈ میڈل جیت کر نیا ریکارڈ قائم کر دیا

جب تقریب میں قندیل مرتضیٰ کا نام پکارا گیا تو پورا ہال تالیوں کی گونج سے لرز اٹھا اور وہاں موجود ہر شخص نے اس قابل طالبہ کی حوصلہ افزائی کی خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے جب اس ہونہار طالبہ کو ایک کے بعد ایک میڈل پہنایا تو ہال میں موجود لوگوں نے ایک بار پھر زوردار تالیاں بجا کر اس بیٹی کی محنت اور لگن کو خراج تحسین پیش کیا اس موقع پر قندیل کے والد بھی اپنی بیٹی کے ساتھ موجود تھے اور ان کی آنکھوں میں خوشی اور فخر کے آنسو صاف دکھائی دے رہے تھے کیونکہ ایک معمولی درزی کی بیٹی نے آج وہ مقام حاصل کیا تھا جو بڑے بڑے امیر اور خوشحال گھرانوں کے بچے بھی حاصل نہیں کر پاتے

وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے میڈل پہنائے

قندیل کے والد نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ان کی یہ بیٹی ابتدا سے ہی بہت ذہین اور محنتی تھی اور انہوں نے ہمیشہ اپنی بیٹیوں کو آگے بڑھنے کی ترغیب دی انہوں نے مزید بتایا کہ ان کی ایک اور بیٹی بھی خیبر میڈیکل کالج میں تعلیم حاصل کر رہی ہے جبکہ ایک بیٹی ایف آئی اے میں گریڈ 17 کی افسر ہے اور ایک بیٹی پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کر کے اسلام آباد میں باعزت نوکری کر رہی ہے اس کے علاوہ ان کے ایک بیٹے نے بھی انجینیئرنگ کی ڈگری حاصل کی ہے قندیل کے والد کی یہ باتیں سن کر وہاں موجود ہر شخص کی آنکھیں نم ہو گئیں کیونکہ ایک معمولی درزی نے اپنی محدود آمدنی میں اپنے تمام بچوں کو اعلیٰ تعلیم دلوائی اور آج ان کا ہر بچہ ملک و قوم کی خدمت کر رہا ہے

درزی والد کی آنکھوں میں فخر کے آنسو

اسی تقریب میں ایک اور ہونہار طالبہ مقدس نے بھی شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کیا اور 10 گولڈ میڈل اپنے نام کیے جو اپنے آپ میں ایک بہت بڑا اور قابل فخر کارنامہ ہے اس کے علاوہ سبین نامی طالبہ نے بھی 7 گولڈ میڈل حاصل کر کے اپنی علمی قابلیت اور محنت کا ثبوت دیا ان تینوں طالبات نے مل کر خیبر گرلز میڈیکل کالج کا نام پوری دنیا میں روشن کیا اور ثابت کر دیا کہ اگر محنت اور لگن ہو تو کوئی بھی مشکل منزل حاصل کی جا سکتی ہے

خیبر گرلز میڈیکل کالج پشاور نے ہمیشہ سے ہی خواتین کی تعلیم اور ترقی میں اہم کردار ادا کیا ہے اور اس ادارے سے ہر سال سینکڑوں طالبات تعلیم مکمل کر کے طبی شعبے میں اپنی خدمات پیش کرتی ہیں لیکن اس سال کی تقریب نے ایک نئی تاریخ رقم کی کیونکہ ایک ہی طالبہ نے 17 گولڈ میڈل حاصل کر کے ایسا ریکارڈ قائم کیا جو شاید آنے والے کئی سالوں تک قائم رہے

قندیل کے خاندان کی حیران کن کامیابیاں

قندیل مرتضیٰ کی کہانی ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ کامیابی کا تعلق امیری یا غریبی سے نہیں بلکہ محنت عزم اور لگن سے ہے ایک درزی کی بیٹی نے یہ ثابت کر دیا کہ اگر انسان ٹھان لے تو کوئی بھی رکاوٹ اسے آگے بڑھنے سے نہیں روک سکتی قندیل نے سالوں کی محنت اور مسلسل جدوجہد سے یہ مقام حاصل کیا اور آج پوری قوم کو ان پر فخر ہے

یہ کامیابی صرف قندیل مرتضیٰ کی ذاتی کامیابی نہیں بلکہ یہ خیبر پختونخوا کی ہر اس بیٹی کی کامیابی ہے جو مشکل حالات میں بھی تعلیم حاصل کرنے کی کوشش کر رہی ہے یہ کامیابی ان تمام والدین کے لیے بھی ایک پیغام ہے جو سمجھتے ہیں کہ بیٹیوں کو تعلیم دلوانا ضروری نہیں قندیل کے والد نے ثابت کیا کہ اگر والدین اپنی بیٹیوں پر بھروسہ کریں اور انہیں آگے بڑھنے کا موقع دیں تو وہ دنیا کو حیران کر سکتی ہیں

ان طالبات کی اس شاندار کامیابی نے نہ صرف ان کے اپنے اداروں اور خاندانوں کا نام روشن کیا بلکہ پوری پاکستانی قوم کے لیے یہ ایک زبردست مثال اور حوصلہ افزا واقعہ ہے یہ بیٹیاں آنے والی نسلوں کے لیے ایک روشن مینار کی حیثیت رکھتی ہیں اور ان کی کہانیاں آنے والی طالبات کو ہمیشہ محنت اور لگن کی طرف راغب کرتی رہیں

متعلقہ پوسٹس