Wed. May 13th, 2026

عمران خان کو شفا ہسپتال منتقل کرنے کی سپریم کورٹ میں درخواست دائر

عمران خان کی بہن عظمیٰ خان نے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کر دی ہے جس میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ عمران خان کو فوری طور پر شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کیا جائے تاکہ ان کی آنکھ کی بیماری کا بہتر علاج ہو سکے سابق وزیراعظم عمران خان کی دائیں آنکھ میں خون کے لوتھڑے کی تصدیق ہو گئی ہے جس سے دل اور دماغ کو سنگین خطرہ لاحق ہو سکتا ہے عظمیٰ خان نے سپریم کورٹ سے فوری مداخلت کی اپیل کی ہے اسلام آباد ہائی کورٹ کے فیصلے کو چیلنج کرتے ہوئے عظمیٰ خان نے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی ہے جس میں عمران خان کو طبی سہولیات سے محروم رکھنے کو امتیازی سلوک قرار دیا گیا ہے
عمران خان کی بہن عظمیٰ خان نے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کر دی ہے جس میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ عمران خان کو فوری طور پر شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کیا جائے تاکہ ان کی آنکھ کی بیماری کا بہتر علاج ہو سکے سابق وزیراعظم عمران خان کی دائیں آنکھ میں خون کے لوتھڑے کی تصدیق ہو گئی ہے جس سے دل اور دماغ کو سنگین خطرہ لاحق ہو سکتا ہے عظمیٰ خان نے سپریم کورٹ سے فوری مداخلت کی اپیل کی ہے اسلام آباد ہائی کورٹ کے فیصلے کو چیلنج کرتے ہوئے عظمیٰ خان نے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی ہے جس میں عمران خان کو طبی سہولیات سے محروم رکھنے کو امتیازی سلوک قرار دیا گیا ہے

سپریم کورٹ میں عمران خان کو شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کرنے کی درخواست دائر

اسلام آباد میں ایک اہم قانونی پیشرفت سامنے آئی ہے جس میں سابق وزیراعظم عمران خان کی بہن عظمیٰ خان نے سپریم کورٹ آف پاکستان میں ایک درخواست دائر کی ہے۔ اس درخواست میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ عمران خان کو فوری طور پر شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کیا جائے تاکہ ان کی آنکھ کی بیماری اور اس سے جڑی دیگر طبی پیچیدگیوں کا بہتر علاج ممکن ہو سکے اور ان کی صحت پر مسلسل نظر رکھی جا سکے

اسلام آباد ہائی کورٹ کے فیصلے کو چیلنج

یہ درخواست اسلام آباد ہائی کورٹ کے بارہ مارچ کے اس حکم کے خلاف دائر کی گئی ہے جس میں اسلام آباد انتظامیہ کو ہدایت کی گئی تھی کہ وہ عمران خان کے معائنے کے لیے ایک طبی بورڈ تشکیل دے۔ عظمیٰ خان کی جانب سے دائر کی گئی اس درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کے بانی چیئرمین عمران خان کی صحت سے متعلق خدشات صرف ان کی دائیں آنکھ کے علاج تک محدود نہیں ہیں بلکہ یہ معاملہ کہیں زیادہ سنگین اور پیچیدہ ہے

آنکھ کی بیماری سے جڑے سنگین طبی خدشات

درخواست میں بتایا گیا ہے کہ عمران خان کو ان کی دائیں آنکھ میں سنٹرل ریٹنل وین آکلوژن نامی بیماری لاحق ہے جس کی وجہ سے ان کی بصارت کو شدید خطرہ لاحق ہو گیا ہے۔ یہ بیماری دراصل ایک خون کے لوتھڑے کی وجہ سے پیدا ہوئی ہے جس نے آنکھ تک خون کی روانی کو متاثر کیا ہے۔ طبی اعتبار سے یہ صورتحال انتہائی سنگین اور خطرناک ہے کیونکہ جسم میں خون کے لوتھڑے بننے کے نتائج بہت مہلک ہو سکتے ہیں۔ اگر یہ لوتھڑا دل کی طرف سفر کرے تو دل کا دورہ پڑ سکتا ہے اور اگر یہ دماغ کی طرف جائے تو فالج کا حملہ ہو سکتا ہے۔ دونوں صورتوں میں انسانی زندگی کو شدید خطرہ لاحق ہو جاتا ہے

خون کے لوتھڑے سے دل اور دماغ کو خطرہ

درخواست میں زور دیا گیا ہے کہ اس طرح کی طبی حالتوں میں فوری اور مسلسل طبی نگرانی ناگزیر ہوتی ہے اور یہ سہولت جیل کے ماحول میں فراہم کرنا ممکن نہیں ہے۔ عظمیٰ خان نے کہا کہ عمران خان کو کسی نجی ہسپتال منتقل کیا جانا ضروری ہے جہاں ان کا تفصیلی معائنہ ہو سکے، مکمل علاج فراہم کیا جا سکے اور ان کی صحت پر مستقل نگرانی رکھی جا سکے۔ درخواست میں یہ بھی کہا گیا کہ خون کے لوتھڑوں کے معاملات میں طبی سہولتوں تک رسائی میں تاخیر جان لیوا ثابت ہو سکتی ہے

جیل میں مناسب طبی سہولیات کا فقدان

اس سلسلے میں انسانی حقوق کمیشن آف پاکستان کی سال دو ہزار تیئس کی رپورٹ کا بھی حوالہ دیا گیا ہے جس کا عنوان تھا “بیمار قیدی”۔ اس کے علاوہ ہیومن رائٹس واچ کی ایک اور رپورٹ کا ذکر کیا گیا جس میں پاکستان کی جیلوں میں قیدیوں کو بروقت اور خصوصی طبی دیکھ بھال فراہم کرنے میں موجود سنگین خامیوں کو اجاگر کیا گیا تھا

درخواست میں یہ بھی موقف اختیار کیا گیا ہے کہ عمران خان کو طبی سہولیات سے محروم رکھنا ایک امتیازی سلوک ہے۔ اس حوالے سے سابق وزیراعظم میاں محمد نواز شریف اور سابق صدر آصف علی زرداری کے معاملات کا حوالہ دیا گیا ہے جنہیں قید کے دوران وسیع پیمانے پر طبی اور ذاتی سہولیات فراہم کی گئی تھیں۔ درخواست گزار کا کہنا ہے کہ عمران خان کا بھی اسی طرح کی سہولیات پانے کا حق ہے اور انہیں محض اس لیے ان سہولیات سے محروم نہیں کیا جا سکتا کہ وہ ایک مختلف سیاسی جماعت سے تعلق رکھتے ہیں۔ یہ بھی واضح کیا گیا کہ عمران خان کا بیرون ملک جانے کا کوئی ارادہ نہیں ہے اور وہ پاکستان میں رہ کر ہی اپنا بہترین طبی علاج کرانا چاہتے ہیں

جیل قوانین کی شق پر اعتراض

اسلام آباد ہائی کورٹ کے فیصلے پر بھی کڑی تنقید کی گئی ہے۔ درخواست میں کہا گیا کہ ہائی کورٹ کے فیصلے کی چودہویں سطر میں اہل خانہ کی رسائی کے حوالے سے جو بات کہی گئی ہے وہ انتہائی غیر واضح ہے اور اس کا مقصد اور دائرہ کار سمجھ میں نہیں آتا۔ درخواست میں جیل کے قوانین کی شق سات سو پچانوے کا ذکر کرتے ہوئے کہا گیا کہ اس شق کا صرف یہ مطلب نہیں ہے کہ جیل حکام سنگین بیماری کی صورت میں قیدی کے اہل خانہ کو اطلاع دیں بلکہ اس شق کا اصل اور بامقصد مطلب یہ ہے کہ اہل خانہ کو اس قابل بنایا جائے کہ وہ قیدی کی مدد اور سہارا بن سکیں

جیل سپرنٹنڈنٹ کی رپورٹ پر سوال

درخواست میں یہ استدلال بھی پیش کیا گیا کہ شق سات سو پچانوے کی معقول اور مقصدیت پر مبنی تشریح یہ ظاہر کرتی ہے کہ بیمار قیدی کے اہل خانہ کو نہ صرف یہ بتانا ضروری ہے کہ قیدی بیمار ہے بلکہ انہیں قیدی کے علاج اور دیکھ بھال میں شامل کرنا بھی لازمی ہے۔ انہیں باقاعدہ اور مسلسل بنیادوں پر قیدی کی صحت کے بارے میں آگاہ رکھنا بھی ضروری ہے۔ اگر ایسا نہ کیا جائے تو محض اطلاع دینے کا کوئی فائدہ نہیں کیونکہ اہل خانہ کو علم تو ہو گا کہ قیدی بیمار ہے لیکن وہ اس کے لیے کچھ نہیں کر سکیں گے۔ یہ بھی کہا گیا کہ قیدی کا اپنے خاندان سے ملنے کا حق خاص طور پر بیماری کے وقت ایک مستحکم اور تسلیم شدہ حق ہے

درخواست میں ہائی کورٹ کے فیصلے پر یہ اعتراض بھی اٹھایا گیا ہے کہ عدالت نے اڈیالہ جیل کے سپرنٹنڈنٹ کی پیش کردہ رپورٹ کی بنیاد پر یہ نتیجہ اخذ کیا کہ عمران خان کا باقاعدہ معائنہ ہو رہا ہے اور ان کی طبی حالت میں بہتری آئی ہے جبکہ درخواست گزار کا موقف ہے کہ یہ رپورٹ حقائق کی صحیح عکاسی نہیں کرتی اور عمران خان کو جو طبی سہولیات ملنی چاہئیں وہ انہیں فراہم نہیں کی جا رہیں

خلاصہ یہ ہے کہ یہ درخواست نہ صرف عمران خان کی ذاتی صحت کے تحفظ کے لیے دائر کی گئی ہے بلکہ اس میں پاکستان کی جیلوں میں قیدیوں کے ساتھ طبی سہولیات کے حوالے سے امتیازی سلوک اور بنیادی انسانی حقوق کی پامالی کا بھی معاملہ اٹھایا گیا ہے۔ درخواست گزار نے سپریم کورٹ سے استدعا کی ہے کہ وہ اس معاملے کا فوری نوٹس لے اور عمران خان کو شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کرنے کا حکم جاری کرے

متعلقہ پوسٹس