ایران میں امریکی طیارے کا ملبہ منظر عام پر آ گیا
ایران میں امریکی طیارے کے ملبے کی تصاویر سامنے آ گئی ہیں۔ امریکی فوج نے ایک ایئر مین کو بچانے کے لیے ایک انتہائی خطرناک ریسکیو مشن انجام دیا تھا جس کے دوران ایک ایف پندرہ ای اسٹرائیک ایگل طیارہ ایران کے جنوب مغربی پہاڑی علاقے میں گر گیا۔ اس مشن میں شامل ایک اے دس اٹیک جیٹ بھی پرشین خلیج کے اوپر حادثے کا شکار ہوا
سوشل میڈیا پر اپریل پانچ دو ہزار چھبیس کو جاری کی گئی تصاویر میں واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے کہ امریکی طیارہ اور ہیلی کاپٹر کا روٹر اصفہان میں زمین پر بکھرا ہوا ہے۔ ایران کی انقلابی گارڈز نے بھی کہا کہ یہ طیارے امریکی فوج کی ریسکیو مشن کے دوران تباہ ہوئے ہیں
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ امریکی فورسز نے دوسرا ایئر مین محفوظ طریقے سے بازیاب کر لیا ہے۔ انہوں نے اس مشن کو امریکی فوج کی تاریخ کے سب سے خطرناک اور جرات مندانہ انخلاء آپریشنز میں سے ایک قرار دیا۔
تجزیہ کاروں کی رائے
فورنسک تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ملبے میں موجود ہیلی کاپٹر کا روٹر امریکی ایم سی ایک سو تیس جے یا ایچ سی ایک سو تیس جے طیارے سے تعلق رکھتا ہے۔ یہ مشن امریکی فوج کے لیے انتہائی حساس اور خطرناک تھا کیونکہ دشمن کے علاقے میں انخلاء آپریشن کے دوران طیارے کو نشانہ بنایا گیا۔
ایران کی انقلابی گارڈز کی سرکاری ویب سائٹ سپاہ نیوز نے بھی تصاویر جاری کیں جن میں ملبہ اور تباہ شدہ طیارے دکھائے گئے ہیں۔ یہ تصاویر عالمی میڈیا اور سوشل میڈیا پر بھی وائرل ہو گئی ہیں۔ تجزیہ کاروں کے مطابق یہ ملبہ امریکی طیارے کے خطرناک مشن کی نشاندہی کرتا ہے جس میں ایئر مین کو بچانے کے لیے امریکی فوج نے اپنی جان خطرے میں ڈالی۔
امریکی صدر نے کہا کہ ملبے کے باوجود ایئر مین کو بازیاب کرنا امریکی فوج کی اعلیٰ تربیت اور ہمت کی دلیل ہے۔ یہ ریسکیو مشن نہ صرف خطرناک تھا بلکہ انتہائی پیچیدہ اور جرات مندانہ بھی تھا۔
ایران میں امریکی طیارے کے گرنے کی خبریں عالمی میڈیا اور سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئی ہیں۔ ملبے کی تصاویر، ہیلی کاپٹر کا روٹر، اور امریکی فوج کے ایئر مین کی محفوظ بازیابی نے امریکی فورسز کی مہارت اور ہمت کو نمایاں کر دیا ہے۔ یہ مشن امریکی فوج کی تاریخ میں یادگار رہے گا اور امریکی فوج کی قابلیت کو اجاگر کرتا ہے

