پاکستان کے ذریعے امن مذاکرات صدر ٹرمپ کی تصدیق اور ایران کا ردعمل
واشنگٹن اور دبئی سے موصولہ اطلاعات کے مطابق امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بتایا کہ پاکستان کے ذریعے امن مذاکرات جاری ہیں صدر ٹرمپ نے کہا کہ نائب صدر جے ڈی وینس امریکہ کے مشرق وسطیٰ کے خصوصی ایلچی سٹیو وٹکوف اور داماد جارڈ کوشنر پاکستان کے ذریعے ثالثوں سے بات چیت کر رہے ہیں صدر نے کہا کہ یہ تمام افراد متحد ہیں اور مذاکرات جاری ہیں
ٹرمپ سے سوال کیا گیا کہ کیا وینس براہ راست ملاقات کا حصہ بنیں گے جس پر صدر نے مختصر جواب دیا کہ یہ ممکن ہے اس دوران ایران نے امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ جنگ کے خاتمے کی خواہش ظاہر کی اور ہرمز کی تنگی دوبارہ کھولنے کے دباؤ کی مخالفت کی ایران نے پاکستان کے ذریعے امریکہ کے امن کے منصوبے کا جواب دیا اور وقفۂ جنگ کی بجائے مستقل جنگ کے خاتمے پر زور دیا ایرانی سرکاری خبر رساں ادارے کے مطابق ایران نے دس نکات پر مشتمل جواب دیا جن میں علاقائی تنازعات کا خاتمہ محفوظ گزرگاہ کے قواعد، پابندیوں کا خاتمہ اور تعمیر نو شامل ہیں
صدر ٹرمپ کی ایران کے لیے سخت دھمکیاں اور مذاکرات کا ردعمل
صدر ٹرمپ نے ایران پر دباؤ ڈالا کہ اگر وہ مقررہ وقت تک معاہدہ نہ کریں تو تباہی کا سامنا ہوگا انہوں نے کہا کہ ایران کو ایک رات میں ختم کیا جا سکتا ہے اور توانائی کے اہم ذرائع پر حملہ کیا جائے گا صدر نے ایرانی پاور پلانٹس اور پل تباہ کرنے کی دھمکی دی اور کہا کہ یہ کارروائی جنگی جرائم یا ایرانی عوام کو نقصان پہنچانے کے مترادف نہیں ہوگی
ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے امریکہ اور اسرائیل کے حملوں کی مذمت کی اور کہا کہ دشمن ایران کو سنگی دور میں واپس لے جانے کی دھمکی دے رہا ہے صدر ٹرمپ نے کہا کہ اگر وقفۂ جنگ کا اعلان ہوا تو ایرانی عوام حکومت کے خلاف احتجاج کریں لیکن انہوں نے یہ بھی کہا کہ حالات انتہائی خطرناک ہیں اور احتجاج کرنے والے فوری فائر کا سامنا کریں گے
ایک سینئر ایرانی سیکیورٹی ذرائع کے مطابق صدر ٹرمپ کی سخت زبان اور دھمکیوں نے ایران کے خلاف امریکی حکمت عملی میں ناکامی ظاہر کی ایران نے کہا کہ ہرمز کی تنگی کا پرانا حالت صرف مستقل جنگ کے خاتمے کے بعد ممکن ہوگا ایران نے اضافی ضمانتیں طلب کی ہیں اور کہا کہ امریکہ اور ٹرمپ پر اعتماد نہیں کیا جا سکتا ایران چاہتا ہے کہ جنگ کا خاتمہ ہو لیکن ٹرمپ کی مطلوبہ ٹائم لائن کے مطابق نہیں
صدر ٹرمپ کی دھمکیوں کے بعد ایران کا ردعمل اور عالمی ردعمل
پاکستان نے ثالث کی حیثیت سے دونوں ممالک کے درمیان رابطہ برقرار رکھا ہے تاکہ مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کم ہو اور عالمی توانائی کے ذرائع محفوظ رہیں پاکستان کے ذریعے مذاکرات میں ایران اور امریکہ کے موقف کو واضح کیا گیا ہے اور ہرمز کی تنگی کے مسائل پر مستقل حل تلاش کرنے کی کوشش کی گئی ہے پاکستان کی ثالثی سے امن مذاکرات میں پیش رفت امید افزا ہے اور عالمی برادری کی نظریں اس پر مرکوز ہیں
صدر ٹرمپ کی سخت دھمکیوں اور ایرانی موقف کے درمیان مذاکرات جاری ہیں اور پاکستان کے ذریعے ثالثی کا کردار بڑھ رہا ہے عالمی توانائی کے اہم راستے ہرمز کی تنگی میں استحکام کے لیے یہ مذاکرات نہایت اہم ہیں اس دوران ایران اور امریکہ کے درمیان بات چیت کے نتائج عالمی سطح پر امن اور توانائی کی قیمتوں پر اثر ڈال سکتے ہیں
پاکستان کی ثالثی نے امن مذاکرات کو نیا موقع دیا ہے اور دونوں فریقین نے مذاکرات کے لیے عارضی طور پر اعتماد کا مظاہرہ کیا ہے اگر یہ مذاکرات کامیاب ہوئے تو مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کم ہوگی اور عالمی توانائی کی ترسیل محفوظ رہے گی یہ اقدامات نہ صرف خطے میں امن کے لیے اہم ہیں بلکہ پاکستان کی سفارتی مہارت کو بھی اجاگر کرتے ہیں

