پاکستان کی ثالثی امریکہ اور ایران کے درمیان امن کی کوششیں
وزیر اعظم شہباز شریف اور چیف آف ڈیفنس اسٹاف اور آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر نے پاکستان کی ثالثی کے ذریعے خطے میں پائیدار امن کے حصول کی کوششوں کا جائزہ لیا پاکستان نے ہمیشہ خطے میں کشیدگی کم کرنے اور تمام فریقوں کے درمیان مذاکرات کے فروغ کے لیے اپنا کردار ادا کیا ہے۔ ملاقات کے دوران دونوں رہنماؤں نے امن قائم رکھنے اور جنگ بندی کے تحفظ پر زور دیا اور فریقین کی جانب سے صبر و تحمل کی تعریف کی
وزیر اعظم شہباز شریف نے فریقین کے عزم کی تعریف کی اور انہیں امن کے حصول میں کامیابی کی خواہش کا اظہار کیا۔ وزیراعظم نے آنے والی امریکی اور ایرانی ٹیموں کو دعوت دی اور یقین دہانی کرائی کہ پاکستان ان کے مذاکرات کے دوران ہر ممکن سہولت فراہم کرے گا۔ اس موقع پر پاکستان نے خود کوایک معتبر ثالث کے طور پر پیش کیا تاکہ خطے میں کشیدگی کم ہو اور مذاکرات کے ذریعے مسائل حل ہوں
امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کے لیے پاکستان کی سہولت
امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملوں کے بعد خطے میں تنازعہ پیدا ہوا جس نے عالمی ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ اور اقتصادی بحران کو جنم دیا۔ اس موقع پر وزیر اعظم شہباز شریف اور ڈپٹی وزیر اعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے ایرانی اور خلیجی رہنماؤں سے رابطے کیے اور مذاکرات اور کشیدگی کم کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ پاکستان نے اعلان کیا کہ وہ امن مذاکرات کی میزبانی کے لیے تیار اور فخر محسوس کرتا ہے تاکہ امریکہ اور ایران کے درمیان نتیجہ خیز بات چیت ہو سکے
امریکی حکومت نے ایک پندرہ نکاتی امن منصوبہ ایران کو پاکستان کے ذریعے بھیجا جبکہ ایران نے جنگ ختم کرنے کے لیے پانچ نکاتی اپنی شرائط پیش کیں۔ بعد ازاں، سعودی عرب، ترکی اور مصر کے وزرائے خارجہ نے اسلام آباد میں چہار فریقی اجلاس میں حصہ لیا جس میں خطے میں کشیدگی کم کرنے کی حکمت عملی پر بات ہوئی۔ پاکستان کے کردار کی تعریف کرتے ہوئے ایران اور امریکہ نے مذاکرات کے لیے اعتماد ظاہر کیا اور پاکستان کو میزبان کے طور پر منتخب کرنے پر خوشی کا اظہار کیا
چین کے ساتھ پاکستان کی پانچ نکاتی امن پہل بھی پیش کی گئی جس کا مقصد خلیج اور مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام بحال کرنا تھا ۵ اپریل کو، امریکی صدر نے ایران کے لیے مخصوص جنگ بندی کی ڈیڈ لائن مقرر کی جس میں ہرمز کی تنگی میں بحری آمد و رفت کی اہمیت پر زور دیا گیا وزیر اعظم شہباز شریف نے امریکی صدر سے ڈیڈ لائن میں دو ہفتے کی توسیع کی درخواست کی اور ایران سے ہرمز کی راہ کو کھولنے کی اپیل کی
دو ہفتے کی جنگ بندی اور مذاکرات کا نیا مرحلہ
بعد ازاں امریکی صدر نے دو ہفتے کے لیے حملے معطل کرنے کا اعلان کیا، جس کے جواب میں ایران نے بھی اپنے دفاعی اقدامات روکنے کا عندیہ دیا۔ اس دو ہفتے کی جنگ بندی کے بعد مذاکرات کا نیا مرحلہ شروع ہوا جس میں ۱۰ نکاتی ایرانی منصوبہ امریکی حکومت نے بنیادی فریم ورک کے طور پر قبول کیا۔ پاکستان کی ثالثی کی کوششیں خطے میں امن کی بحالی کے لیے اہم کردار ادا کر رہی ہیں اور عالمی سطح پر اس کی پذیرائی ہو رہی ہے
پاکستان کی ثالثی وزیر اعظم شہباز شریف کی قیادت، اور چیف آف ڈیفنس اسٹاف عاصم منیر کی حکمت عملی نے امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کے لیے اعتماد پیدا کیا ہے اس سے نہ صرف خطے میں کشیدگی کم ہوئی
بلکہ عالمی توانائی کی مارکیٹ پر بھی مثبت اثر پڑا۔ پاکستان کی یہ کوششیں عالمی سطح پر امن اور استحکام کے فروغ میں اہم مثال کے طور پر دیکھی جا رہی ہیں

