جنوبی لبنان پر اسرائیلی حملے کشیدگی میں خطرناک اضافہ
مشرق وسطیٰ میں ایک بار پھر کشیدگی شدت اختیار کر گئی ہے جہاں اسرائیلی فوج نے جنوبی لبنان میں رات گئے مسلسل کارروائیاں جاری رکھیں جس کے نتیجے میں کم از کم تین افراد جاں بحق ہو گئے
ہفتے کی صبح سویرے لبنان کے جنوبی علاقوں میں فضائی حملوں کا سلسلہ شروع ہوا جس میں رہائشی علاقوں کو نشانہ بنایا گیا مقامی خبر رساں اداروں کے مطابق نباطیہ کے علاقے میں واقع ایک عمارت مکمل طور پر تباہ ہو گئی جبکہ متعدد دیگر گھروں کو بھی شدید نقصان پہنچا
اس دوران میفدون اور جبشیت کے علاقوں میں بھی حملے کیے گئے جہاں ایک بجلی پیدا کرنے والے نظام کو نشانہ بنایا گیا جس کے بعد آگ بھڑک اٹھی اور پورا علاقہ دھوئیں کی لپیٹ میں آ گیا ان حملوں نے نہ صرف شہری زندگی کو متاثر کیا بلکہ بنیادی سہولیات بھی شدید متاثر ہوئیں
یہ کارروائیاں ایسے وقت میں کی جا رہی ہیں جب پہلے سے ایک جنگ بندی نافذ ہے جو نومبر دو ہزار چوبیس میں عمل میں آئی تھی تاہم اس کے باوجود کشیدگی کم ہونے کے بجائے مزید بڑھتی جا رہی ہے دو مارچ کو ہونے والے سرحدی حملے کے بعد اسرائیلی فوج نے اپنی کارروائیوں میں مزید تیزی پیدا کر دی
دوسری جانب لبنان حزب اللہ نے بھی ردعمل دیتے ہوئے شمالی اسرائیل کے علاقوں میں میزائل اور بغیر پائلٹ طیاروں کے حملے کیے جن میں کیریات شمونہ اور دیگر فوجی مقامات کو نشانہ بنایا گیا اس صورتحال نے خطے میں خطرے کی گھنٹی مزید بجا دی ہے
کستان کی ثالثی سفارتی کوششوں میں اہم پیش رفت
عالمی سطح پر بھی اس صورتحال پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے ریاستہائے متحدہ نے اعلان کیا ہے کہ وہ جلد اسرائیل اور لبنان کے درمیان براہ راست مذاکرات کی میزبانی کرے گا ان مذاکرات کا مقصد جنگ بندی کو مستحکم بنانا اور حالات کو قابو میں لانا ہے
ادھر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے ساتھ دو ہفتوں کی جنگ بندی کے اعلان کے بعد خطے میں سفارتی سرگرمیاں تیز ہو گئی ہیں جبکہ پاکستان کی ثالثی کو بھی اس حوالے سے اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے
لبنان کی حکومت نے واضح کیا ہے کہ آنے والے مذاکرات ابتدائی نوعیت کے ہوں گے جبکہ اسرائیل کا مؤقف مختلف ہے اور وہ انہیں باضابطہ امن مذاکرات قرار دے رہا ہے اس اختلاف نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے
ادھر ایران نے بھی سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے اقتصادی پابندیوں کے خاتمے اور خطے میں اپنی حیثیت کو تسلیم کرنے کا مطالبہ کیا ہے جس کے باعث عالمی سطح پر توانائی کی فراہمی اور معیشت پر بھی اثرات مرتب ہو رہے ہیں
مسلسل حملوں اور جوابی کارروائیوں نے جنوبی لبنان کے عوام کو شدید خوف میں مبتلا کر دیا ہے جبکہ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر فوری طور پر سنجیدہ اقدامات نہ کیے گئے تو یہ تنازعہ ایک بڑی جنگ کی شکل اختیار کر سکتا ہے
اس تمام صورتحال میں مشرق وسطیٰ ایک بار پھر عالمی توجہ کا مرکز بن چکا ہے جہاں ہر نئی پیش رفت نہ صرف خطے بلکہ پوری دنیا کے امن پر اثر انداز ہو رہی ہے

