غزہ امدادی فلوٹیلا کی نئی روانگی
غزہ امدادی فلوٹیلا ایک بار پھر عالمی توجہ کا مرکز بن گیا ہے کیونکہ انسانی امداد لے کر ایک نیا بحری قافلہ اتوار کے روز اسپین کے شہر بارسلونا سے روانہ ہونے کی تیاری کر رہا ہے جس کا مقصد غزہ کے محاصرے کو توڑنے کی کوشش کرنا ہے
یہ فلوٹیلا تقریباً تیس کشتیوں پر مشتمل ہے جو طبی امداد خوراک اور بنیادی ضروریات کا سامان لے کر فلسطینی عوام تک پہنچنے کی کوشش کریں گی اور اس کے ساتھ مزید کشتیاں راستے میں شامل ہونے کی توقع بھی ظاہر کی جا رہی ہے
گزشتہ سال بھی اسی تنظیم کی جانب سے تقریباً چالیس کشتیوں کا قافلہ غزہ کی طرف روانہ ہوا تھا مگر اسرائیلی فوج نے اسے راستے میں روک دیا تھا اور متعدد کارکنوں کو حراست میں لے لیا تھا جن میں معروف سویڈش ماحولیاتی کارکن گریٹا تھنبرگ بھی شامل تھیں اور مجموعی طور پر چار سو سے زائد افراد کو گرفتار کیا گیا تھا
اس بار مشن کو انسانی ہمدردی کی بنیاد پر ایک انسانی راہداری کھولنے کی کوشش قرار دیا جا رہا ہے تاکہ غزہ کے اندر موجود دو ملین سے زائد افراد تک امداد با آسانی پہنچ سکے
فلسطینی کارکنوں کا انسانی راہداری کا مطالبہ
اسرائیل کا مؤقف ہے کہ وہ غزہ کے عوام سے امداد نہیں روک رہا تاہم فلسطینی عوام اور بین الاقوامی امدادی ادارے مسلسل یہ مؤقف رکھتے ہیں کہ امداد کی فراہمی ناکافی ہے اور موجودہ حالات میں ضروری سامان کی شدید کمی برقرار ہے
اس فلوٹیلا کی حمایت کرنے والے اداکار لیام کننگھم نے کہا ہے کہ ہر کلوگرام امداد اس بات کی علامت ہے کہ حکومتیں اپنی ذمہ داری پوری نہیں کر رہیں اور عام شہری اپنی مدد آپ کے تحت انسانی خدمت کے لیے آگے بڑھ رہے ہیں
اسی طرح عالمی ادارہ صحت نے بھی اس بات پر زور دیا ہے کہ جنگی حالات میں بھی ریاستوں پر لازم ہے کہ وہ شہریوں کو محفوظ طبی سہولیات تک رسائی فراہم کریں
فلوٹیلا کی انتظامی کمیٹی کے رکن فلسطینی کارکن سیف ابوخشخ نے کہا ہے کہ یہ مشن صرف امداد نہیں بلکہ ایک انسانی راہداری کھولنے کی کوشش ہے تاکہ امدادی ادارے بلا رکاوٹ غزہ تک پہنچ سکیں
گزشتہ مشن میں شامل سوئس اور ہسپانوی کارکنوں نے دعویٰ کیا تھا کہ انہیں حراست کے دوران غیر انسانی حالات کا سامنا کرنا پڑا تاہم اسرائیلی وزارت خارجہ نے ان الزامات کو مسترد کر دیا تھا
غزہ امدادی فلوٹیلا اسرائیلی محاصرہ انسانی امداد غزہ عالمی ردعمل غزہ بحران اور مشرق وسطیٰ کشیدگی جیسے سرچ ٹرینڈز اس وقت عالمی میڈیا اور سوشل پلیٹ فارمز پر تیزی سے زیر بحث ہیں
یہ صورتحال ایک بار پھر اس سوال کو جنم دے رہی ہے کہ کیا انسانی امداد کو سیاسی تنازعات سے بالاتر رکھا جا سکتا ہے یا نہیں

