Wed. Mar 4th, 2026

ایران بحران اور وزیراعظم شہباز شریف کی زیرصدارت اہم اجلاس

ایران بحران کے دوران پاکستان کی خارجہ حکمت عملی وزیراعظم شہباز شریف اجلاس ایران صورتحال پارلیمانی رہنماؤں کی یکجہتی ایران بحران مشرق وسطی میں کشیدگی اور پاکستان کا موقف ایران پر امریکی اسرائیلی حملے اور پاکستان کا ردعمل پاکستان اور افغانستان کی موجودہ صورتحال ایران سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای شہادت اثرات پاکستان میں سیاسی قیادت اور قومی سلامتی پاکستان کی علاقائی سلامتی اور سیاسی اتحاد ایران اور مشرق وسطی بحران میں پاکستان کی بریفنگ
ایران بحران کے دوران پاکستان کی خارجہ حکمت عملی وزیراعظم شہباز شریف اجلاس ایران صورتحال پارلیمانی رہنماؤں کی یکجہتی ایران بحران مشرق وسطی میں کشیدگی اور پاکستان کا موقف ایران پر امریکی اسرائیلی حملے اور پاکستان کا ردعمل پاکستان اور افغانستان کی موجودہ صورتحال ایران سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای شہادت اثرات پاکستان میں سیاسی قیادت اور قومی سلامتی پاکستان کی علاقائی سلامتی اور سیاسی اتحاد ایران اور مشرق وسطی بحران میں پاکستان کی بریفنگ

وزیراعظم کی زیرصدارت اہم اجلاس

اسلام آباد میں بدھ کے روز وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیرصدارت ایک اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں ملک کی سیاسی اور عسکری قیادت نے حصہ لیا اجلاس کا مقصد ایران اور خطے کی موجودہ کشیدہ صورتحال کا تفصیلی جائزہ لینا تھا اجلاس کے دوران فارن آفس کے اہلکاروں نے پارلیمانی رہنماؤں اور سیاسی قیادت کو خطے کی تازہ پیش رفت بشمول ایران کی صورتحال سے آگاہ کیا

اجلاس میں پاکستان پیپلز پارٹی جمعیت علماء اسلام ف متحدہ قومی موومنٹ اور بلوچستان عوامی پارٹی کے رہنما شریک ہوئے جبکہ سینیٹ اور قومی اسمبلی میں اپوزیشن کے رہنما اجلاس میں شریک نہیں ہوئے اسی طرح پاکستان تحریک انصاف اور سنی اتحاد کونسل کے رہنما بھی اجلاس کا بائیکاٹ کیا اجلاس میں خصوصی توجہ ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی شہادت کے بعد پیدا ہونے والی کشیدگی پر دی گئی جس کے بعد امریکہ اور اسرائیل نے ایران پر مشترکہ حملے کیے اور ایران نے بھی جوابی کارروائی کرتے ہوئے

اسرائیل اور امریکہ کے عسکری اڈوں کو نشانہ بنایا اجلاس کے دوران شرکا کو پاکستان اور افغانستان کی صورتحال ایران میں پیش رفت مشرق وسطی اور خلیج میں جاری تنازعات اور پاکستان کی علاقائی سلامتی کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی گئی اس اجلاس میں اس امر پر زور دیا گیا کہ موجودہ عالمی اور خطائی مشکلات کے دوران قومی یکجہتی اور اتحاد بہت ضروری ہے شرکا نے اتفاق کیا

کہ ملک کو اندرونی اور بیرونی چیلنجز کا مقابلہ کرنے کے لیے سیاسی اختلافات کو مؤخر کرنا ہوگا اور تمام پارلیمانی جماعتیں مل کر ملکی مفاد میں فیصلے کریں اجلاس میں یہ بھی غور کیا گیا کہ ایران میں حالیہ کشیدگی کے پیش نظر پاکستان کی خارجہ پالیسی کی حکمت عملی کیا ہونی چاہیے

ایران اور خطے میں بڑھتی کشیدگی

اور خطے میں امن و استحکام کے لیے کون سی حکمت عملی اختیار کی جا سکتی ہے شرکا نے زور دیا کہ پاکستان کو خطے میں کشیدگی کم کرنے اور عالمی طاقتوں کے ساتھ توازن قائم رکھنے کے لیے اپنا کردار مؤثر طریقے سے ادا کرنا چاہیے

جلاس میں یہ بھی کہا گیا کہ پاکستان کی علاقائی سلامتی تجارتی مفادات اور شہریوں کی حفاظت کے لیے فوری اور مناسب اقدامات کی ضرورت ہے پارلیمانی رہنماؤں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ قومی میڈیا اور عوام کے ساتھ مربوط رابطے کے ذریعے صورتحال کی وضاحت کی جائے تاکہ افواہوں اور غلط معلومات سے بچا جا سکے اجلاس کے اختتام پر وزیراعظم نے شرکا کو اعتماد دلایا کہ حکومت ملکی سلامتی اور علاقائی امن کے لیے تمام ممکنہ اقدامات کرے گی اور سیاسی قیادت کے ساتھ مسلسل رابطے میں رہے گی

اجلاس نے ملک میں موجودہ چیلنجز کے دوران سیاسی اتحاد اور قومی یکجہتی کو مضبوط کرنے کا پیغام دیا تاکہ پاکستان اندرونی اور بیرونی خطرات کا مؤثر مقابلہ کر سکے اور عوام کو محفوظ اور مستحکم ماحول فراہم کیا جا سکے اجلاس میں شریک رہنماؤں نے عزم ظاہر کیا کہ وہ سیاسی مفادات سے بالاتر ہو کر ملکی مفاد میں تعاون کریں گے اور موجودہ کشیدگی میں پاکستان کی خارجہ اور داخلی پالیسی کے لیے متحدہ موقف اختیار کریں گے اس طرح ملک کے تمام اہم سیاسی اور عسکری حلقے مل کر خطے میں امن و استحکام کے قیام اور ملکی سلامتی کے تحفظ کے لیے اقدامات کریں گ

متعلقہ پوسٹس