پاکستان اور موجودہ معاشی بحران
پاکستان کو موجودہ معاشی بحران کا سامنا ہے اور حالیہ عالمی حالات نے اس بحران کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے آئی ایم ایف اور پاکستان کے درمیان حالیہ عملے کی سطح کا معاہدہ ایک ایسے وقت آیا ہے جب ملک کی اقتصادی حالت انتہائی غیر مستحکم ہے یہ معاہدہ جسے عموماً بین الاقوامی مالیاتی سہولیات اور موسمیاتی تبدیلی کی حمایت کے تناظر میں دیکھا جاتا ہے اب ایک بڑے جغرافیائی سیاسی بحران کے ساتھ جڑا ہوا ہے جس میں امریکہ اور اسرائیل کی ایران پر جنگ شامل ہے جس نے خطے کے اقتصادی حالات کو بدل کر رکھ دیا ہے
اس بحران کا مرکز ہارمز کی خلیج کے ذریعے توانائی کی ترسیل میں رکاوٹ ہے کسی بھی طویل المدتی رکاوٹ سے درآمدات پر منحصر معیشتوں میں مہنگائی کا دباؤ بڑھتا ہے اور پاکستان ان میں سب سے زیادہ متاثرہ ہے عالمی تیل کی قیمتوں میں اضافہ پہلے ہی ملک کی نازک مالی پالیسیوں کو پرکھ رہا ہے جس سے مہنگائی پر قابو پانے، بیرونی اکاؤنٹ کے توازن اور کرنسی کی استحکام میں حاصل شدہ کامیابیاں خطرے میں پڑ سکتی ہیں
اس پس منظر میں آئی ایم ایف کا معاہدہ جو اگلے قرض کے قسط ایک اعشاریہ دو بلین ڈالر کی تقسیم کی راہ ہموار کرتا ہے اور ساتھ ہی پاکستان کی ایندھن کی قیمتوں کے انتظام کی غیر رسمی قبولیت ظاہر کرتا ہے ایک اہم نقطہ ہے روایتی طور پر آئی ایم ایف توانائی سبسڈی کے مخالف رہا ہے کیونکہ یہ مالی بوجھ اور مارکیٹ میں خلل پیدا کرتی ہیں لیکن موجودہ حالات میں پاکستان کے فیصلے کو براہ راست چیلنج نہ کرنا اس بات کا اشارہ ہے کہ عالمی جھٹکے اس قدر شدید ہیں کہ لچکدار رویہ اختیار کرنا ضروری ہے
مالی نظم و ضبط اور توانائی شعبے کی اصلاحات
تاہم یہ لچک بے حد آزادی کے مترادف نہیں ہے آئی ایم ایف کا بیان واضح کرتا ہے کہ مالی نظم و ضبط برقرار رکھنا توانائی کے شعبے میں اصلاحات کرنا اور ساختی اصلاحات کو تیز کرنا لازمی ہیں بنیادی توجہ یہ ہے کہ پاکستان کو بیرونی جھٹکوں کو جھیلتے ہوئے عوام کی حفاظت کرنی ہے اور مالیاتی اصلاحات کا راستہ بھی جاری رکھنا ہے یہ ایک انتہائی نازک توازن ہے جو بحران کے بڑھنے کے ساتھ اور زیادہ مشکل ہو جاتا ہے
آئی ایم ایف کے بیان سے یہ واضح ہوتا ہے کہ پاکستان کی اقتصادی سمت اب صرف داخلی پالیسی کے فیصلوں سے نہیں بلکہ جغرافیائی سیاسی حالات سے بھی متاثر ہو رہی ہے تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ اور عالمی مالی حالات میں تنگی مہنگائی میں اضافہ اور ترقی اور موجودہ اکاؤنٹ پر دباؤ ڈال سکتی ہے اس جنگ نے آئی ایم ایف پروگرام میں غیر یقینی صورتحال کا عنصر داخل کر دیا ہے اور غیر یقینی صورتحال مالی منصوبہ بندی کو سب سے زیادہ مشکل بنا دیتی ہے
اس معنی میں آئی ایم ایف پروگرام اب صرف استحکام کے لیے فریم ورک نہیں بلکہ ملک کی اقتصادی لچک کی آزمائش بن گیا ہے کیا پاکستان مالی نظم و ضبط برقرار رکھتے ہوئے ہنگامی امداد فراہم کر سکتا ہے کیا ترقی کی حفاظت کرتے ہوئے استحکام کو برقرار رکھ سکتا ہے اس کا انحصار حکومت کی ترجیحات کے تعین پر ہے تمام عوام کو بڑھتی ہوئی ایندھن کی قیمتوں سے بچانے کی سیاسی خواہش اقتصادی طور پر پائیدار نہیں ہے حکومتی فیصلے اقتصادی استحکام مالی اصلاحات اور توانائی کے شعبے کی اصلاحات ایک ساتھ چلانے کی صلاحیت پر کامیابی یا ناکامی کا انحصار ہے

