امریکہ ایران جنگ بندی پر نئی پیش رفت سامنے آگئی
واشنگٹن سے موصولہ اطلاعات کے مطابق ایک اہم سفارتی اور عسکری صورتحال میں پیش رفت سامنے آئی ہے جہاں ایران اور امریکہ کے درمیان جنگ بندی کے بعد کشیدگی میں نمایاں کمی دیکھی جا رہی ہے
امریکی انتظامیہ کے ایک سینئر عہدیدار نے کہا ہے کہ جو عسکری کارروائیاں اٹھائیس فروری کو شروع ہوئی تھیں اب وہ قانونی اور عملی طور پر ختم تصور کی جا رہی ہیں
یہ معاملہ امریکی جنگی اختیارات کے قانون سے جڑا ہوا ہے جس کے تحت صدر کو محدود مدت کے لیے فوجی کارروائی کی اجازت ہوتی ہے
ذرائع کے مطابق امریکی صدر کو کانگریس کو واضح کرنا تھا کہ آیا جنگ جاری رہے گی یا ختم کر دی گئی ہے لیکن موجودہ صورتحال میں جنگ بندی کو بنیاد بنا کر اسے ختم قرار دیا جا رہا ہے
دفاعی حکام نے بھی سینیٹ کو بتایا کہ موجودہ وقفہ کو جنگ کے خاتمے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے تاہم بعض قانون ساز اس سے متفق نہیں ہیں اور ان کے مطابق اس کی قانونی حیثیت پر سوالات موجود ہیں
اس پوری صورتحال میں خطے میں ایک نازک امن قائم ہے اور ایران اور امریکہ کے درمیان براہ راست فائرنگ کا کوئی واقعہ حالیہ ہفتوں میں سامنے نہیں آیا
ماہرین کا انتباہ: صورتحال اب بھی غیر یقینی
تجزیہ کاروں کے مطابق اگر یہ جنگ بندی برقرار رہتی ہے تو خطے میں مزید بڑے تصادم سے بچاؤ ممکن ہو سکتا ہے تاہم صورتحال اب بھی مکمل طور پر مستحکم نہیں کہی جا سکتی
امریکی حکام کا کہنا ہے کہ دفاعی اقدامات اب بھی نگرانی میں ہیں اور کسی بھی غیر متوقع صورتحال کے لیے تیاریاں جاری ہیں
دوسری جانب بعض سیاسی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ صرف وقتی ہو سکتا ہے کیونکہ فریقین کے درمیان بنیادی اختلافات ابھی بھی موجود ہیں
اگر مستقل امن کے لیے اقدامات نہ کیے گئے تو دوبارہ کشیدگی پیدا ہونے کا خدشہ برقرار رہے گا
عالمی سطح پر بھی اس پیش رفت کو اہم قرار دیا جا رہا ہے کیونکہ اس کا اثر تیل کی قیمتوں اور عالمی معیشت پر بھی پڑ سکتا ہے
مشرق وسطی کے ممالک اس صورتحال کو انتہائی قریب سے دیکھ رہے ہیں کیونکہ اس کا براہ راست اثر ان کی سکیورٹی اور معیشت پر پڑتا ہے
مجموعی طور پر یہ صورتحال ایک نازک موڑ پر کھڑی ہے جہاں ایک طرف جنگ بندی کا اعلان ہے اور دوسری طرف سیاسی اور قانونی بحثیں جاری ہیں
اگر دونوں فریقین سنجیدگی کے ساتھ مذاکرات کی طرف بڑھتے ہیں تو مستقل امن کی امید کی جا سکتی ہے

